پوپ لیو چودھویں کی ہدایت پر عالمی امن کیلئے دعائیہ تقریب،، “دعا نفرتوں کا خاتمہ کرتی ہے” : بشپ یوسف سوہن کا خطاب
ملتان : مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیوچودھویں کی خصوصی ہدایات پر دنیا بھر میں امن کے لیے دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا گیا اسی سلسلے میں کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب و بین الکلیساءپاکستان کے زیر اہتمام کیتھولک بشپ ہاو ¿س ملتان میں ایک پروقار اور روح پرور تقریب کا اہتمام کیا گیاجہاں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کرکے بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال پیش کی تقریب کی صدارت کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب وبینالکلیساءپاکستان کے چیئرمین، بشپ آف ملتان بشپ یوسف سوہن نے کی اس موقع پر نیشنل ڈائریکٹر سیموئیل کلیمنٹ، شہزاد فرانسس، علامہ ابو بکر عثمان الازہری، ڈاکٹر ارشد علی بلوچ، پروفیسر عبدالماجد وٹو، صاحبزادہ بشارت عباس قریشی، پیر عبید صدر پوری، سرفراز کلیمنٹ، شازر گل، ملک محمد کمبوہ، عابد پالوس، اطہر جہانیاں اور رانا عرفان سمیت دیگر معززین شریک ہوئے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بشپ یوسف سوہن نے کہا کہ دعا دلوں کو جوڑنے اور نفرتوں کو ختم کرنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے موجودہ عالمی حالات میں برداشت، رواداری اور مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور یہی اقدار پائیدار امن کی بنیاد فراہم کرتی ہیں انہوں نے کہا کہ پوپ لیو چودھویں کی اپیل پر دنیا بھر کے گرجا گھروں میں خصوصی دعائیں کی جا رہی ہیں تاکہ انسانیت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور اخوت کے ساتھ کیا جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ تباہی کا پیش خیمہ ہے، جبکہ حقیقی اور دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین باہمی احترام کے ساتھ ایک میز پر بیٹھ کر مذاکرات کریں اس موقع پر قومی قیادت کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی کاوشوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث پاکستان کو دنیا بھر میں قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اس موقع پر نیشنل ڈائریکٹر سیموئیل کلیمنٹ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان مکالمہ، احترام اور باہمی تعاون ہی ایک پرامن معاشرے کی بنیاد رکھ سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات نہ صرف مختلف کمیونٹیز کو قریب لاتی ہیں بلکہ نفرتوں کے خاتمے اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں تقریب کے اختتام پر عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور ملک کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں یہ روحانی اجتماع اس بات کا واضح پیغام تھا کہ محبت، برداشت اور مکالمہ ہی ایک پرامن اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں۔





































Visit Today : 300
Visit Yesterday : 533
This Month : 6593
This Year : 54429
Total Visit : 159417
Hits Today : 1691
Total Hits : 717636
Who's Online : 5





















