حج بیت اللہ نسل پرستی اور تعصبات کے خلاف عظیم عملی اعلامیہ ہے: ذیشان کلیم معصومی
ملتان: جماعت اہل سنت پاکستان صوبہ پنجاب کے ناظمِ اطلاعات و میڈیا ترجمان، ممتاز فکری و مذہبی سکالر علامہ صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے جامع مسجد الہالہ میں نمازِ جمعۃ المبارک کے عظیم الشان اجتماع سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حج بیت اللہ ملوکیت، نسل پرستی اور ہر قسم کے لسانی و علاقائی تعصبات کے خلاف کائنات کا سب سے بڑا عالمگیر عملی اعلامیہ ہے۔ میدانِ عرفات وہ مقدس مقام ہے جہاں دنیا کی تمام مادی سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور پوری دنیا کا مسلمان ایک ہی لباس اور ایک ہی انداز میں امتِ واحدہ کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے خطبہ حجة الوداع کو انسانیت کا پہلا آفاقی چارٹر قرار دیتے ہوئے پُردرد انداز میں کہا کہ تاجدارِ کائنات ﷺ نے تاقیامت نسلی تفاخر کے بتوں کو پاش پاش کرتے ہوئے عربی، عجمی، گورے اور کالے کی تفریق مٹا کر مساوات کا جو درس دیا تھا، آج مسلمانوں نے اسے بھلا دیا ہے۔ اتحاد و اتفاق کی اسی لازوال نعمت سے محرومی اور داخلی انتشار کے باعث آج مسلم امہ دنیا بھر میں رسوا اور ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ اگر امت دوبارہ عروج چاہتی ہے تو اسے خطبہ حجة الوداع کے پیغامات کو اپنی عملی زندگیوں میں لانا ہوگا اور معاشرے میں یکجہتی کی فضا عام کرنی ہوگی۔ امسال عیدِ الضحیٰ اور یومِ عرفہ کے پُربرکت موقع پر انہوں نے اپنے خصوصی پیغام میں قربانی کے حقیقی فلسفے کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عیدِ قربان ہمیں صرف جانور ذبح کرنے کا درس نہیں دیتی، بلکہ یہ اپنی انا کو اللہ کی رضا پر قربان کر دینے کا نام ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ ہم جانور کی گردن پر چھری چلانے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر چھپے ہوئے نمرودی نفس، معاشرتی جھوٹ، تکبر، منافقت اور باہمی نفرتوں پر بھی ابراہیمی خنجر چلائیں۔ انہوں نے علامہ اقبال کے فلسفے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج بھی ہو جو ابراہیم کا ایماں پیدا، آگ کر سکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا! خطاب کے آخر میں علامہ صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے ملک و ملت کی ترقی، معاشی استحکام، پاکستان کی حفاظت اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں بالخصوص فلسطین و کشمیر کے اسیروں کی آزادی کے لیے خصوصی رقت آمیز دعا فرمائی




































Visit Today : 509
Visit Yesterday : 489
This Month : 11707
This Year : 75426
Total Visit : 180414
Hits Today : 17818
Total Hits : 1133773
Who's Online : 4























