پاک چین دوستی — اعتماد، ترقی اور استحکام کی لازوال داستان

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

پاک چین دوستی سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی، فولاد سے مضبوط اور ہمالیہ سے بلند ہے۔
یہ محض ایک نعرہ نہیں بلکہ دو ایسی اقوام کے تعلقات کی حقیقی ترجمانی ہے جنہوں نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ دنیا کی بدلتی ہوئی سیاست، عالمی دباؤ، معاشی بحران اور خطے کے پیچیدہ حالات کے باوجود پاکستان اور چین کی دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوئی ہے۔ یہ رشتہ مفادات سے کہیں بڑھ کر اعتماد، اخلاص اور بھائی چارے پر قائم ہے۔
پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات 1951ء میں قائم ہوئے۔ اُس وقت شاید کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو کہ یہ تعلقات ایک دن عالمی سیاست میں مثالی دوستی کی علامت بن جائیں گے۔ چین نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا، چاہے وہ دفاعی میدان ہو، معاشی مشکلات ہوں یا بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کا مؤقف۔ اسی طرح پاکستان نے بھی چین کے قومی مفادات اور “ون چائنا پالیسی” کی ہمیشہ بھرپور حمایت کی۔
چین نے ہمیشہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد دوست سمجھا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں سے لے کر مسئلہ کشمیر تک، چین نے پاکستان کے مؤقف کو اہمیت دی۔ اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر چین کی حمایت پاکستان کے لیے ہمیشہ حوصلہ افزا رہی۔ دوسری طرف پاکستان نے بھی عالمی سطح پر چین کے خلاف ہونے والی سازشوں اور دباؤ کے باوجود دوستی کا حق ادا کیا۔
آج پاک چین دوستی کا سب سے بڑا مظہر “چین پاکستان اقتصادی راہداری” یعنی سی پیک ہے۔ یہ منصوبہ صرف سڑکوں، پلوں اور بجلی گھروں کا نام نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کی امید ہے۔ سی پیک نے پاکستان میں توانائی، انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے۔ گوادر پورٹ کو عالمی تجارتی مرکز بنانے کا خواب بھی اسی دوستی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان میں جب توانائی کا شدید بحران تھا، صنعتیں بند ہو رہی تھیں اور معیشت مشکلات کا شکار تھی، اُس وقت چین نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے پاکستان کو اندھیروں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ بجلی کے متعدد منصوبے مکمل ہوئے، موٹرویز اور شاہراہیں تعمیر ہوئیں اور ملک میں ترقی کے نئے دروازے کھلے۔ یہ سب اس دوستی کی عملی مثالیں ہیں۔
چین صرف معاشی میدان میں ہی نہیں بلکہ تعلیمی، ثقافتی اور دفاعی شعبوں میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ ہزاروں پاکستانی طلبہ چینی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تبادلے عوامی سطح پر محبت اور اعتماد کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔ دفاعی شعبے میں جے ایف 17 تھنڈر جیسے منصوبے دونوں ممالک کی مشترکہ کامیابی کی روشن مثال ہیں۔
عالمی سیاست میں چین کا بڑھتا ہوا کردار بھی پاکستان کے لیے امید کی کرن ہے۔ آج چین دنیا کی ایک بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے یہ دوستی نہایت اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اگر اپنی داخلی سیاسی اور معاشی صورتحال کو مستحکم کرے تو چین کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں اور ملک ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔
تاہم اس دوستی سے مکمل فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو سنجیدگی، مستقل مزاجی اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سیاسی عدم استحکام، کرپشن اور ناقص پالیسیوں نے کئی منصوبوں کو متاثر کیا۔ چین جیسے مخلص دوست کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے نظام کو بہتر بنائیں، سرمایہ کاروں کو تحفظ دیں اور منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائیں۔
یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ چین نے کبھی پاکستان پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ہمیشہ پاکستان کی خودمختاری اور قومی مفادات کا احترام کیا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستانی عوام کے دلوں میں چین کے لیے بے پناہ محبت اور احترام پایا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کو بھائی سمجھتے ہیں اور یہی عوامی محبت اس تعلق کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
آج جب دنیا مختلف بلاکس میں تقسیم ہو رہی ہے اور عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئے اتحاد بنا رہی ہیں، ایسے میں پاک چین دوستی خطے میں امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت بن سکتی ہے۔ پاکستان اور چین اگر مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھیں تو نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ اس کے مثبت اثرات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
پاک چین دوستی آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک روشن مثال ہے۔ یہ تعلق ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ سچی دوستی صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل، اعتماد اور مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے سے قائم رہتی ہے۔ چین نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی پاکستان کا مخلص دوست ہے۔
بلاشبہ پاک چین دوستی سمندر سے گہری، شہد سے میٹھی، فولاد سے مضبوط اور ہمالیہ سے بلند ہے، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ رشتہ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان کے روشن مستقبل کی امیدوں میں اگر کوئی دوستی سب سے نمایاں ہے تو وہ یقیناً پاک چین دوستی ہے