سیف سٹی منصوبہ ,,,, نگرانی تو موجود، تحفظ کہاں غائب؟
سیف سٹی منصوبہ — نگرانی تو موجود، تحفظ کہاں غائب؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا قیام بلاشبہ ایک جدید اور وقت کی اہم ضرورت کے طور پر سامنے آیا تھا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنا، جرائم کی روک تھام، ٹریفک نظام کی بہتری اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی فوری نشاندہی و ردعمل تھا۔ ابتدائی دنوں میں جب ملتان سمیت مختلف شہروں میں سیف سٹی کیمروں کا نظام فعال ہوا تو شہریوں، تاجروں اور عام لوگوں میں ایک امید کی لہر دوڑ گئی کہ اب شہر زیادہ محفوظ ہوگا، جرائم میں کمی آئے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد حاصل ہوگی۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمینی حقیقتیں اس امید سے مختلف دکھائی دینے لگیں۔ شہریوں کا عمومی تاثر یہ بنتا جا رہا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کا کردار زیادہ تر “ریکارڈنگ” تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ عملی مدد، بروقت ایکشن اور فوری ریسپانس کا نظام کمزور نظر آتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں کوئی حادثہ پیش آ جائے، ٹریفک کا کوئی بڑا مسئلہ ہو، یا کسی شہری کو لوٹ لیا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیف سٹی کا اصل فائدہ کہاں ہے؟
ملتان جیسے بڑے شہر میں ٹریفک کا نظام پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔ روزانہ حادثات کی خبریں سامنے آتی ہیں، ٹریفک جام معمول بن چکا ہے، اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر شہر میں جدید کیمرہ سسٹم موجود ہے تو پھر ٹریفک کی بہتری کے لیے اس سے مؤثر فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟ کیا یہ کیمرے صرف بعد میں ویڈیوز دیکھنے اور سوشل میڈیا پر کلپس وائرل کرنے کے لیے ہیں یا ان کا مقصد واقعی شہریوں کی حفاظت تھا؟
ایک اور اہم پہلو جرائم کی روک تھام ہے۔ اگر کسی شہری کے ساتھ اسلحہ کے زور پر ڈکیتی ہو جائے، موبائل فون یا قیمتی سامان چھین لیا جائے، یا کسی کے ساتھ کوئی سنگین واقعہ پیش آ جائے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ سیف سٹی کی فوٹیج تو موجود ہوتی ہے، لیکن فوری مدد یا بروقت ایکشن نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال میں شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں اور یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اتنا بڑا جدید نظام آخر کس کام کا ہے اگر وہ بروقت جان و مال کے تحفظ میں کردار ادا نہ کر سکے؟
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کل سوشل میڈیا پر حادثات اور جرائم کی ویڈیوز تو فوراً وائرل ہو جاتی ہیں، لیکن ان واقعات کے دوران متاثرہ شخص کی مدد یا فوری ریسپانس کا نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ ایک حادثہ ہوتا ہے، کیمرہ فوٹیج محفوظ ہو جاتی ہے، لیکن جب تک کارروائی شروع ہوتی ہے تب تک اکثر نقصان ہو چکا ہوتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو شہریوں میں مایوسی پیدا کر رہا ہے۔
سیف سٹی کا تصور صرف نگرانی (Surveillance) تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ ایک فعال تحفظی نظام (Active Security System) ہونا چاہیے۔ دنیا بھر میں ایسے نظام نہ صرف جرائم ریکارڈ کرتے ہیں بلکہ AI اور فوری الرٹ سسٹمز کے ذریعے فورسز کو بروقت اطلاع دیتے ہیں، جس سے جرائم کی شرح میں واضح کمی آتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ نظام ابھی تک مکمل طور پر اس سطح پر فعال دکھائی نہیں دیتا۔
شہریوں کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ سیف سٹی کیمروں کو صرف “ریکارڈنگ ڈیوائس” نہ بنایا جائے بلکہ انہیں ایک فعال نگرانی اور ردعمل کے نظام سے جوڑا جائے۔ ٹریفک خلاف ورزیوں پر فوری چالان، حادثات پر فوری ایمبولینس اور ریسکیو کو اطلاع، اور جرائم کی صورت میں فوری پولیس رسپانس ہونا چاہیے تاکہ یہ نظام حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکے۔
مزید یہ کہ سیف سٹی کے ڈیٹا اور فوٹیج تک رسائی کا عمل بھی شفاف اور تیز ہونا چاہیے۔ اکثر شہریوں کو شکایت ہوتی ہے کہ انہیں ثبوت یا فوٹیج حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، جس کی وجہ سے قانونی کارروائی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر یہ نظام عوامی تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے تو پھر اس کی سروسز بھی عوام کے لیے آسان اور مؤثر ہونی چاہئیں۔
آخر میں یہ بات کہنا ضروری ہے کہ سیف سٹی منصوبہ اپنی جگہ ایک بہترین اور جدید آئیڈیا ہے، مگر اس کی اصل کامیابی اس کے عملی نفاذ میں ہے۔ اگر یہ نظام صرف کیمروں اور ریکارڈنگ تک محدود رہا تو اس کا فائدہ کم اور مایوسی زیادہ ہوگی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ایک فعال، جوابدہ اور فوری ردعمل دینے والے ادارے کے طور پر مزید مضبوط کیا جائے تاکہ شہری واقعی خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔
شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کسی بھی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور ٹیکنالوجی کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ انسان کی زندگی آسان اور محفوظ بنائی جائے۔ اگر سیف سٹی اتھارٹی اس مقصد کو پورا کرنے میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو رہی تو اس پر نظر ثانی اور اصلاح وقت کی اہم ضرورت ہے۔








































Visit Today : 529
Visit Yesterday : 470
This Month : 8612
This Year : 72331
Total Visit : 177319
Hits Today : 15575
Total Hits : 1024698
Who's Online : 25




















