ملتان(صفدربخاری سے) ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا نے طب کے میدان میں جھنڈے گاڑنے کے بعد اب قلم کے میدان میں بھی کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ ان کا اسلوب اتنا شاندار ہے۔ کہ پڑھنے والا بار بار ان کی تحریر کا مطالعہ کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے نامور ادیب ڈاکٹر اسد اریب نے کتاب نگر کے زیر اہتمام ڈاکٹر ہارون خورشید پاشا کی تیسری کتاب خود شناسی کا سفر کی تعارفی تقریب میں بطور صدر محفل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا پورا خانوادہ انتہائی پڑھا لکھا ہے۔ اس لیے ان کی تحریر کی پختگی بتاتی ہے کہ وہ صاحب مطالعہ قلم کار ہیں۔ لاہور سے آئے ہوئے تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے کہا کہ مجھے ان کی کتب نے اتنا متاثر کیا کہ میں اب تک اس کتاب کو حفظ کر چکا ہوں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مختلف مضامین کے حوالے دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی تحریریں ایک اصلاح احوال کرتی ہیں تو دوسری جانب معلومات میں اضافہ کرتی ہیں۔ وائس چانسلر ایمرسن یونیورسٹی ڈاکٹر حسان خالق قریشی نے کہا یہ محض ایک کتاب کی تعارفِی تقریب نہیں ہے، بلکہ یہ علم و دانش، تہذیب و تمدن اور فکری بالیدگی کا ایک ایسا روح پرور اجتماع ہے جہاں مجھے آ بہت خوشی ہوئی۔ اس کی بازگشت مدتوں دل کے نہاں خانوں میں گونجتی رہے گی۔ وائس چانسلر نشر یونیورسٹی ڈاکٹر مہناز خاکوانی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ اس پروقار تقریب میں شرکت میرے لیے ایک دلی تسکین اور اعزاز کا باعث ہے۔ ان کا رشتہ ہمارے خاندان کے ساتھ علم اور احترام کی ایسی مضبوط ڈور سے بندھا ہے جو نسلوں پر محیط ہے۔ڈاکٹر حمید رضا صدیقی نے کہا ان کی مقناطیسی شخصیت کا یہ عالم ہے کہ جب بھی ان کی صحبتِ بابرکت میں بیٹھنے کا موقع ملتا ہے، علم و حکمت کا ایک نیا باب وا ہوتا ہے، ذہن کو ایک نئی جلا ملتی ہے اور ان کے وسیع مطالعے اور سحر انگیز گفتگو کی ہر نئی تہہ ہمیں ورطۂ حیرت اور مائلِ ستائش کر دیتی ہے۔ وہ علمِ طب کے شناور ہی نہیں، بلکہ انسانی نفس اور روح کے نباض بھی ہیں،ڈاکٹر انوار احمد نے کہا یہ کتاب ایک گراں مایہ فکر کی عکاس ہے۔ میں اپنی طرف سے ایمرسن یونیورسٹی کی لابریری کے لیے ڈاکٹر پاشا کی کتب خرید کر عطیہ کروں گا۔ اس تقریب سے علم و ادب کی نامور شخصیات کے علاوہ ملک کی نامور مغینہ ثریا ملتانیکر خطاب اور مرزا غالب کی غزل پیش کی۔ تقریب میں مسز صالحہ پاشا، ڈاکٹر غلام مجتجے، ڈاکٹر مسعود الروف ہراج، ڈاکٹر اظہر منیر، ڈاکٹر کاشف چشتی، نوازش علی ندیم، پروفیسر نسیم شاہد، ڈاکٹر فرزانہ کوکب، صائمہ نورین بخاری، مریم پاشا، اشعر حسن کامران، ڈاکٹر شہلا آفتاب، قاری عبداللہ اور دیگر نے خطاب کیا۔ شاکر حسین شاکر اور علی سخنور نے نظامتِ کے فرائض انجام دئیے۔