ویمن یونیورسٹی ملتان میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات پر آگہی پروگرام
ملتان: آلٹرنیٹو ریسرچ انیشیٹو اور سن کنسلٹنٹ کے زیر اہتمام ویمن یونیورسٹی ملتان میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات اور تدارک سے متعلق آگہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین، اساتذہ، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی،پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے سلطان محمود ملک نے کہا کہ تمباکو سے
پاک پاکستان مہم کے تحت ملک کے تین صوبوں اور 13 اضلاع میں آگہی پروگرامز منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ نوجوان نسل کو تمباکو نوشی جیسی مضر عادت سے بچایا جا سکے اور انہیں صحت مند سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ افراد سگریٹ نوشی کرتے ہیں جن میں 13.8 فیصد مرد اور 5.8 فیصد خواتین شامل ہیں، جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی یہ رجحان 6 سے 14 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ نوشی کے باعث سالانہ لاکھوں افراد جان لیوا بیماریوں اور اموات کا شکار ہو رہے ہیں، اس لیے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عبدالسمیع نے کہا کہ تمباکو نوشی ایک عالمی جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان بھی اس مسئلے میں بری طرح گھرا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق روزانہ 1200 نوجوان سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں، جو انتہائی تشویشناک امر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سگریٹ کے ایک کش سے انسانی جسم میں ہزاروں مضر کیمیکل پیدا ہوتے ہیں جو مختلف جان لیوا بیماریوں کا سبب بنتے ہیں، لہٰذا مو ¿ثر پالیسی سازی کے لیے تحقیق کے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ویمن یونیورسٹی کی ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر عدیلہ سعید نے بتایا کہ یونیورسٹی سطح پر ٹوبیکو کنٹرول کمیٹی قائم کر دی گئی ہے تاکہ طلبہ و طالبات کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیا جا سکے اور کیمپس کو ٹوبیکو فری زون بنایا جا سکے،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر اسمائ اکبر نے کہا کہ عوامی مقامات پر “نو اسموکنگ زون” کی واضح نشاندہی، 18 سال سے کم عمر افراد کو سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی اور تعلیمی اداروں کے باہر 50 میٹر کے فاصلے تک تمباکو مصنوعات کی فروخت پر پابندی جیسے قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔اس موقع پر ٹوبیکو کنٹرول کمیٹی کی رکن بریرہ بی بی نے قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چونگی نمبر 9 سے گلگشت کالونی تک ویپ شاپس کو فوری بند کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو محفوظ بنایا جا سکے۔پروگرام کے اختتام پر “تمباکو نوشی پر پابندی اور غیر تمباکو نوش افراد کی صحت کے تحفظ آرڈیننس 2002” کے حوالے سے آگہی دیوار کا افتتاح بھی کیا گیا۔






































Visit Today : 444
Visit Yesterday : 498
This Month : 10683
This Year : 74402
Total Visit : 179390
Hits Today : 18851
Total Hits : 1091880
Who's Online : 8






















