ملتان :  مرکزی تنظیم تاجران پاکستان ضلع ملتان کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تاجروں کو درپیش مسائل، بجٹ 2026-27 کی تیاریوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کے مہمانِ خصوصی خواجہ سلیمان صدیقی تھے جبکہ صدارت ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں حاجی اختر قریشی مرکزی صدر شجاع آباد، خواجہ محمود الحسن مرکزی جنرل سیکرٹری شجاع آباد، احمد حسن سینئر نائب صدر مرکزی تنظیم شجاع آباد، شوکت غوری صدر راجہ رام، حافظ اکرم میو راجہ رام، خواجہ مدثر صدیقی، سید ریحان بخاری، مدثر علی، خالد محمود، علی رضا، مزمل قریشی اور خواجہ آصف سمیت دیگر تاجروں نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتحال میں تاجروں اور عوام دونوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو تاجروں کے مسائل حل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کاروباری طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔اس موقع پر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان ضلع ملتان کے ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ اور مرکزی صدر شجاع آباد حاجی اختر قریشی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے مسلسل ٹیکسوں میں اضافے، بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہوشربا بڑھوتری اور نت نئے محصولات کے نفاذ نے تاجروں اور عوام دونوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں کاروباری طبقہ شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے، ایسے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ بجٹ سازی کے عمل میں تاجروں کی نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لے اور ان کی مشاورت سے ایسے فیصلے کرے جن سے معیشت کو استحکام اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تمام تاجر دھڑوں کو باہمی اختلافات ختم کرکے متحد ہونا ہوگا اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ تاجروں اور عوام دونوں کے حقوق کا مؤثر انداز میں دفاع کیا جا سکے۔انجمن تاجران راجا رام کے صدر شوکت غوری نے کہا کہ بجلی، گیس اور دیگر بنیادی سہولیات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کاروبار کی تباہی کا سبب بن رہا ہے جبکہ آئے روز نئے ٹیکسز عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں پانی پر ممکنہ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام سراسر زیادتی اور عوام دشمن پالیسی کے مترادف ہوگا۔اجلاس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر تاجروں اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرے، غیر ضروری ٹیکسز واپس لے اور بجٹ میں ایسے اعلانات کیے جائیں جن سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور عوامی مشکلات میں کمی آئے۔