لاہور ہائی کورٹ کے بائیو میٹرک سسٹم کے خلاف چیف جسٹس پاکستان کو شکایت،، سابق صدر ہائی کورٹ بار ملتان سید ریاض الحسن گیلانی نے بائیو میٹرک فیس کو غیر آئینی قرار دے دیا
ملتان: ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان کے سابق صدر اور سینئر قانون دان سید ریاض الحسن گیلانی نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف باضابطہ شکایت دائر کر دی ہے ، جس میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سائلین اور وکلاء کے لئے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دینے کے اقدام کو غیر آئینی، غیر قانونی اور انصاف تک رسائی میں رکاوٹ قرار دیا گیا ہے،شکایت میں لاہور ہائی کورٹ کے 18 مارچ 2026ء کے جاری کردہ نوٹیفکیشن اور ایس او پیز کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتوں میں درخواستیں دائر کرنے کے لئے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے کر ہر سائل سے 200 روپے وصول کئے جا رہے ہیں، جن میں سے 60 روپے متعلقہ بار ایسوسی ایشن جبکہ 20 روپے عدالتی عملے کے لئے مختص کئے گئے ہیں،سید ریاض الحسن گیلانی نے موقف اپنایا کہ عدالتی ملازمین پہلے ہی حکومت سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کر رہے ہیں، اس کے باوجود سائلین سے ان کے نام پر اضافی رقم وصول کرنا “رشوت ستانی کا نیا ذریعہ” بن چکا ہے، شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ اس مد میں اب تک کروڑوں روپے اکٹھے کئے جا چکے ہیں، سابق صدر کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یا نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کو عوام پر کسی قسم کا ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ یہ اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے، شکایت میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نادرا کے ذریعے بائیو میٹرک اور ای-حلف نامہ کی فیس صرف 30 روپے ہے، جبکہ لاہور ہائی کورٹ میں اس مد میں 200 روپے وصول کئے جا رہے ہیں،شکایت میں کہا گیا کہ بائیومیٹرک تصدیق کو لازمی قرار دینے سے غریب، ناخواندہ اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے سائلین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ جیلوں میں موجود قیدیوں، معذور افراد اور ایسے شہریوں کو بھی مشکلات پیش آ رہی ہیں جن کے شناختی کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے یا جن کی بائیو میٹرک تصدیق کسی تکنیکی وجہ سے ممکن نہیں ہو رہی،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ شناختی کارڈ، حلف نامے اور وکلاء کی تصدیق جیسے متبادل ذرائع موجود ہونے کے باوجود بائیو میٹرک شرط نافذ کرنا غیر ضروری، امتیازی اور غیر متناسب اقدام ہے، جس سے انصاف کا نظام مزید پیچیدہ ہو گیا ہے،شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا کہ عدالتی عمل کا ایک بنیادی حصہ نجی سروس فراہم کنندگان کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو خودمختار عدالتی اختیارات کی غیر قانونی منتقلی کے مترادف ہے،انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا بائیو میٹرک نوٹیفکیشن اور متعلقہ ایس او پیز کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے کر فوری طور پر ختم کیا جائے۔






































Visit Today : 379
Visit Yesterday : 686
This Month : 9148
This Year : 72867
Total Visit : 177855
Hits Today : 4917
Total Hits : 1036856
Who's Online : 5





















