ملتان :  سابق صدرایوان تجارت و صنعت ملتان اور چیئرمین ملتان ڈرائی پورٹ ٹرسٹ خواجہ محمد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت ایک بار پھر عالمی سطح پر اعتماد حاصل کر رہی ہے اور حالیہ بین الاقوامی مالیاتی کامیابیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ملک درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل 2026 میں چار سال بعد پاکستان کی international bond markets میں واپسی خوش آئند پیش رفت ہے، جہاں پاکستان کے Eurobond کو غیر معمولی پذیرائی ملی اور 500 ملین ڈالر سے بڑھ کر 750 ملین ڈالر تک oversubscribe ہونا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اسی طرح پاکستان کے پہلے Panda Bond کی کامیاب اجراء اور اس پر پانچ گنا سے زائد subscription اس امر کی دلیل ہے کہ دنیا اب پاکستان کی معاشی صلاحیت کو تسلیم کر رہی ہے۔ایک بیان میں خواجہ محمد حسین نے کہا کہ یہ وہی پاکستان ہے جو چند سال قبل default کے خطرات سے دوچار تھا، مگر آج عالمی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے دوبارہ پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کمپنیوں کے پاکستان چھوڑنے کے تاثر کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران جہاں چند کمپنیاں باہر گئیں وہیں بڑی تعداد میں نئی غیر ملکی کمپنیاں پاکستان آئیں اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ سعودی عرب، چین، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک کی سرمایہ کاری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں کاروباری مواقع موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ بڑے کاروباری معاہدے، جیسے PTCL کی جانب سے Telenor Pakistan کا حصول، Wafi Energy کی جانب سے Shell Pakistan کی خریداری اور دیگر کاروباری منتقلیاں دراصل پاکستانی سرمایہ کاروں کی مضبوطی اور اعتماد کی علامت ہیں۔ یہ کاروباری دنیا میں تبدیلی اور استحکام کا عمل ہے، نہ کہ کمزوری۔خواجہ محمد حسین نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ Budget 2026-27 میں صنعتوں کو سستی اور مستحکم توانائی فراہم کی جائے تاکہ کاروباری طبقہ طویل المدتی منصوبہ بندی کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ FBR کی جانب سے کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے اور bank accounts کی ناجائز attachment جیسے اقدامات فوری بند کیے جائیں اور ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور قابل اعتماد بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقات پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے نئے لوگوں کو tax net میں شامل کیا جائے تاکہ معیشت کا دائرہ وسیع ہو۔انہوں نے کہا کہ جب دنیا پاکستان پر دوبارہ اعتماد کر رہی ہے تو حکومت کو بھی اپنے کاروباری طبقے کو اعتماد، سہولت اور استحکام فراہم کرنا ہوگا تاکہ ملکی معیشت مزید مضبوط ہو سکے۔