میت کو اس وقت تک کوڑے مارے جاتے ہیں جب تک وہ چلانا نہ شروع کر دے۔
افریقی عقائد و توہمات کی عجیب وغریب داستان
تحریر: میر احمد کامران مگسی
افریقہ کے بیشتر قبائل میں بعد از موت اور تدفین کے حوالے سے عجیب و غریب رسومات دیکھی جا سکتی ہیں۔ میڈیا کی رسائی کی بدولت ایسے ایسے عجیب و غریب اور محیر العقول واقعات دیکھنے کو مل رہے ہیں کہ پناہ بخدا!
وسطی افریقہ کے جنوبی حصے میں واقع ملک انگولا کے وسطی مغربی پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر Ovimbundu نامی قبیلہ میں تدفین کے حوالے سے انتہائی کریہہ المنظر صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے۔ جس کی تفصیل کچھ اس طرح سے ہے۔
اگر کوئی قدرتی موت مر جائے تو پورے احترام اور پروٹوکول کے ساتھ اسے دفن کیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس کوئی خود کشی کرے، آگ لگنے سے مرے، ڈوب کر مرے ِ آسمانی بجلی گرنے سے مرے، کسی جرم کی پاداش میں مارا جائے یا اسے سزائے موت ملی ہو، اس کی تدفین کا منظر یکسر مختلف ہوتا ہے۔
ان کے مطابق خود کشی یا حرام موت کو انتہائی ناپسندیدہ اور برے شگون سے تشبیہٖ دی جاتی ہے۔ لہذا اس طرح کی کسی بھی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے خود کشی کرنے والے شخص کے خاندان کو باقاعدہ اس کا حساب دینا پڑتا ہے اور ان کے طے کردہ صفائی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اور بھاری رقم سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں۔
بد شگونی کے اس عمل کے بد اثرات اور اس کے نتیجے میں بد روحوں کی آمد کو روکنے کیلئے رسومات کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے جو ایک لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔
روایات کے مطابق مردہ کی لاش کو رہائشی علاقوں سے بہت دور لے جانے سے پہلے پہلے کوڑے مارے جاتے ہیں۔ یہ کوڑے اس وقت تک مارے جاتے ہیں جب تک مردے کی آنکھوں سے آنسو جاری نہ ہو جائیں۔ (معلوم نہیں اس کی تصدیق کیسے کی جاتی ہو گی! )
مختلف قبائل کی نمائندگی کرنے والے دس دس لوگوں کا ایک گروپ میت کو کوڑے مارنے اور گالم گلوچ دینے کا فریضہ سر انجام دیتا ہے۔ اس کام کیلئے انہیں مرنے والے کے خاندان کی طرف سے اچھا خاصا معقول معاوضہ دلایا جاتا ہے۔ اور کوڑے مارنے والے افراد اس وقت تک گھر نہیں جا سکتے جب تک متوفی کے اہل خانہ انہیں ادائیگی نہ کر لیں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو میت خواب میں آکر انہیں پریشان کرتی ہے اور ساری عمر وہ سکون کی نیند کیلئے بھٹکتے پھرتے ہیں مگر سکون کہاں۔!
کوڑے مارنے کے بعد تدفین کا عمل آدھی رات کے بعد شروع کیا جاتا ہے جب سارے سورہے ہوتے ہیں۔ تاکہ مرنے والے کی روح خاندان کے افراد کو ستانے کیلئے واپس نہ آ جائے۔ جبکہ تدفین کے مقام کے بارے میں سب کو لاعلم رکھا جاتا ہے۔ کسی کو نہیں بتایا جاتا کہ ان کا مردہ کس جگہ دفن کیا گیا ہے۔
تحقیق و تحریر: میر احمد کامران مگسی