کاروباری طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا، حکومتی پالیسیاں تجارت کے لیے چیلنج
کاروباری طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب گیا، حکومتی پالیسیاں تجارت کے لیے چیلنج
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان اس وقت معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور کاروباری بدحالی جیسے سنگین مسائل سے گزر رہا ہے۔ ان حالات میں جہاں کاروباری طبقہ ملکی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں حکومتی پالیسیوں اور ٹیکسوں کی بھرمار نے تاجروں اور صنعتکاروں کے لیے نئے مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ کاروباری افراد کا کہنا ہے کہ آئے روز نئے ٹیکس، بجلی و گیس کے بڑھتے نرخ، بینکنگ پابندیاں اور پیچیدہ ایف بی آر قوانین نے کاروبار کرنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔
کاروبار کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تاجر اور صنعتکار مطمئن ہوں تو سرمایہ کاری بڑھتی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور ملکی ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے۔ لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس نظر آتی ہے۔ چھوٹے دکاندار سے لے کر بڑے صنعتکار تک سب ہی حکومتی ٹیکس پالیسیوں سے پریشان دکھائی دیتے ہیں۔
گزشتہ چند برسوں میں مختلف ناموں سے نئے ٹیکس نافذ کیے گئے۔ کبھی ایڈوانس ٹیکس، کبھی ودہولڈنگ ٹیکس، کبھی سیلز ٹیکس اور کبھی فائلر و نان فائلر کی سخت شرائط۔ اس کے علاوہ بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکسز نے بھی کاروباری لاگت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ایک عام تاجر جب اپنا ماہانہ حساب لگاتا ہے تو اس کی آمدنی کا بڑا حصہ ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی بلز کی نذر ہو جاتا ہے۔
کاروباری طبقے کا یہ بھی مؤقف ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے بار بار انہی لوگوں پر بوجھ ڈالتی ہے جو پہلے ہی ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ملک میں اب بھی ایک بڑی تعداد ٹیکس نیٹ سے باہر ہے مگر ایف بی آر کی توجہ زیادہ تر رجسٹرڈ کاروباری افراد پر رہتی ہے۔ اس وجہ سے ایماندار ٹیکس دہندگان خود کو سزا یافتہ محسوس کرتے ہیں۔
دوسری جانب مہنگی بجلی اور گیس نے صنعتی شعبے کی کمر توڑ دی ہے۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں مسلسل اضافہ ہونے سے مقامی صنعت عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہی۔ کئی صنعتیں بند ہو چکی ہیں جبکہ متعدد کارخانے جزوی طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان مزدور طبقے کو ہو رہا ہے جو بے روزگاری کا شکار ہو رہا ہے۔
حکومتی اداروں کی جانب سے کاروباری افراد کو درپیش مسائل میں آسانی پیدا کرنے کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔ مختلف محکموں کی فیسیں، لائسنس، این او سیز اور بار بار کے نوٹس کاروباری طبقے کے لیے ذہنی اذیت بن چکے ہیں۔ ایک چھوٹا تاجر جو بمشکل اپنا کاروبار چلاتا ہے، وہ ان سرکاری کارروائیوں سے شدید متاثر ہوتا ہے۔
کاروباری برادری کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی معیشت کو مستحکم کرنا چاہتی ہے تو اسے تاجروں کو سہولتیں دینا ہوں گی۔ ٹیکس نظام کو آسان اور شفاف بنایا جائے، غیر ضروری ٹیکس ختم کیے جائیں، بجلی و گیس کے نرخ کم کیے جائیں اور صنعتوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیجز متعارف کروائے جائیں۔ اس کے علاوہ سرمایہ کاروں کو اعتماد دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ وہ خوف اور غیر یقینی صورتحال کے بغیر سرمایہ کاری کر سکیں۔
ماہرین معیشت کے مطابق دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں کاروباری طبقے کو سہولت دیتی ہیں کیونکہ یہی طبقہ ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ وہاں ٹیکس شرح مناسب رکھی جاتی ہے اور کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان پالیسیاں بنائی جاتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صورتحال مختلف ہے جہاں کاروبار شروع کرنے والا شخص پہلے دن سے ہی ٹیکسوں اور سرکاری رکاوٹوں کے جال میں پھنس جاتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ بیٹھ کر جامع پالیسی تشکیل دے۔ ایسے فیصلے کیے جائیں جو کاروبار کو فروغ دیں نہ کہ اسے تباہ کریں۔ اگر کاروباری طبقہ کمزور ہوگا تو معیشت بھی کمزور ہوگی، بے روزگاری بڑھے گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ کاروباری افراد کو صرف ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے انہیں ملکی ترقی کا شراکت دار تصور کرے۔ تاجروں کو اعتماد، تحفظ اور آسانیاں دی جائیں تاکہ وہ کھل کر سرمایہ کاری کریں، نئی صنعتیں لگائیں اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کریں۔ کیونکہ مضبوط کاروبار ہی مضبوط معیشت کی بنیاد ہوتے ہیں۔
آج کا تاجر صرف ٹیکسوں کے بوجھ تلے نہیں دبا بلکہ غیر یقینی معاشی حالات، مہنگی توانائی، کمزور پالیسیوں اور سرکاری پیچیدگیوں سے بھی شدید پریشان ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف کاروبار سکڑیں گے بلکہ ملکی معیشت کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت زمینی حقائق کو سمجھے اور ایسے اقدامات کرے جو کاروباری طبقے کے لیے آسانی اور ملک کے لیے خوشحالی کا باعث بن سکیں۔







































Visit Today : 388
Visit Yesterday : 686
This Month : 9157
This Year : 72876
Total Visit : 177864
Hits Today : 4997
Total Hits : 1036936
Who's Online : 3





















