ملتان: جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین نے اہل سنت ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی بھرپور اور غیر مشروط حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حکومتِ وقت اور بالخصوص سندھ حکومت کو سخت ترین الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اوقاف کی آڑ میں اہل سنت کے مسلمہ، آئینی اور تاریخی حقوق کو غصب کرنے کی مہم جوئی فوری طور پر بند کی جائے، بصورتِ دیگر پیدا ہونے والی شدید بے چینی اور ملک گیر احتجاج کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ ​جماعت اہلسنت پاکستان کے سربراہ علامہ سید مظہر سعید کاظمی، ناظم اعلیٰ صاحبزادہ پیرخالد سلطان قادری، مرکزی سیکرٹری اطلاعات پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری، رکن سنی سپریم کونسل وسیم ممتاز ایڈووکیٹ، صوبائی امیر پیر سید خلیل الرحمن شاہ بخاری، صوبائی ناظم اعلیٰ مولانا محمد فاروق خان سعیدی اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے اپنے ایک ہنگامی اور اہم ترین مشترکہ اعلامیے میں محکمہ اوقاف کی جانب سے سندھ حکومت کو بھیجی جانے والی حالیہ سمری پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے اہل سنت کے مذہبی، آئینی اور تاریخی حقوق پر کاری ضرب اور مروجہ تاریخی معاہدوں پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔ ​قائدین نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی وزیر ریاض شیرازی، سیکرٹری اوقاف اور ان کی پشت پناہی کرنے والے مخصوص عناصر ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت صوبے کے پُرامن ماحول کو فرقہ وارانہ کشیدگی کی طرف دھکیل رہے ہیں، جس کے نتائج انتہائی بھیانک اور سنگین ہو سکتے ہیں۔ وطن عزیز پہلے ہی داخلی و خارجی سازشوں اور دہشت گردی کا شکار ہے، ایسے نازک حالات میں اس قسم کی مہم جوئی ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار کرنے کی شعوری کوشش ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ، حضرت قطب عالم شاہ بخاریؒ اور حضرت غائب شاہ بخاریؒ سمیت تمام بڑے مزارات اہل سنت کے عقیدے، تاریخ اور تشخص کے بنیادی مراکز ہیں۔ ان مقدس مقامات کی مذہبی شناخت تبدیل کرنے، اوقافی املاک پر قبضہ جمانے یا وہاں من پسند اور متنازع کمیٹیاں مسلط کرنے کی ہر کوشش کو اہل سنت اپنے ایمان اور وجود پر حملہ تصور کرتے ہوئے پوری قوت سے رد کرتے ہیں۔ ​جماعت اہلسنت کے قائدین نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ سندھ میں جاری اس خطرناک مہم کا فوری نوٹس لیں، قبضہ مافیا اور محکمہ اوقاف کے متعصب افسران کو لگام دیں اور علماء و مشائخ اہل سنت کی مشاورت سے ایک متبادل اور غیر متنازع نگران کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ پُرامن ماحول برقرار رہ سکے۔ مزاراتِ اکابرین اور اپنی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے تمام قانونی، آئینی، عوامی اور جمہوری راستے اختیار کیے جائیں گے اور کسی بھی قسم کی مذہبی جارحیت، غنڈہ گردی یا استحصال کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔