ملتان: تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر سے تجاوز، معاشی استحکام خطرے میں ہے چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان کے سابق صدر میاں راشد اقبال نے پاکستان کے بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور معاشی دباؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر معاشی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور مقامی صنعت کو تحفظ دیا جا سکے۔پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے میاں راشد اقبال نے کہا کہ مالی سال 26-2025 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو معیشت کو درپیش سنگین چیلنجز کی نشاندہی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتنا بڑا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ معیشت میں بنیادی نوعیت کے مسائل موجود ہیں جن کے حل کے لیے فوری پالیسی اقدامات ضروری ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تجارتی اور صنعتی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور برآمدات بڑھانے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے، جس میں نئی منڈیوں کی تلاش، صنعتوں کی معاونت اور غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی شامل ہو۔انہوں نے مہنگائی میں دوبارہ اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ فروری 2026 میں مہنگائی کی شرح 7 فیصد رہی، جو جنوری میں 5.8 فیصد اور فروری 2025 میں 1.5 فیصد تھی۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں، ایندھن کی قیمتوں اور اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی لاگت نے عوام کی قوتِ خرید کو کم کر دیا ہے جبکہ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ توانائی کی قیمتوں کے نظام کا جائزہ لیا جائے اور ایسے ٹیکسز اور سرچارجز کم کیے جائیں جو صنعت اور صارفین پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ کاروبار دوست معاشی روڈ میپ تیار کیا جائے جس کے ذریعے تجارتی خسارہ کم، مہنگائی پر قابو، مقامی صنعت کو مضبوط اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملتان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور تاجر برادری حکومت کے ساتھ مل کر معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور پاکستان کو پائیدار اور جامع ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔