اساتذہ تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، قوموں کا عروج و زوال اساتذہ کی قوت سے وابستہ ہے : چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی
ملتان(صفدربخاری سے)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان کا مستقبل اس بات سے جڑا ہے کہ ملک اپنے نوجوانوں کو کس حد تک مؤثر اور معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے۔ نوجوان آبادی اور بے پناہ صلاحیتوں کے حامل پاکستان کی کامیابی کا دارومدار جامعات کے معیار پر ہے۔وہ ہفتے کے روز جناح آڈیٹوریم بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی میں اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن (ASA) کی ایگزیکٹو باڈی کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جامعات کو اپنے اپنے خطوں میں تعلیم، تحقیق، جدت اور سماجی ذمہ داری کے مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ وہ بطور چیئرمین سینیٹ پارلیمانی فورم پر تعلیم کو قومی پالیسی سازی کا مرکزی ستون قرار دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے نصاب میں اصلاحات، تعلیم کو جدید جاب مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے اور پاکستانی جامعات کے عالمی شہرت یافتہ اداروں سے روابط مضبوط بنانے پر زور دیا۔سید یوسف رضا گیلانی نے اساتذہ اور اکیڈمک اسٹاف کو تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوموں کا عروج و زوال اساتذہ کی قوت سے وابستہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز پیشہ ورانہ حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور فکری آزادی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔چیئرمین سینیٹ نے جنوبی پنجاب اور ملک بھر میں معیاری تعلیم کے فروغ میں بی زیڈ یو کے کردار کو سراہتے ہوئے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا کہ شجاع آباد میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا کیمپس قائم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس کیمپس سے شجاع آباد، جلالپور پیر والا، علی پور ،لودھراں اور گرد و نواح کے طلبہ کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس مطالبے کی بلا تاخیر منظوری دیں گی۔انہوں نے یاد دلایا کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی 1975 میں سابق وزیرِاعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے قائم کی گئی، جبکہ اسی فیصلے کے تحت اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اور گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان بھی قائم ہوئیں۔ یہ جنوبی علاقوں میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کا ایک دور اندیش قومی فیصلہ تھا، جس کا مقصد پائیدار قومی ترقی کے لیے تعلیمی مساوات کو یقینی بنانا تھا۔اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ (2008 تا 2012) کا حوالہ دیتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ شدید معاشی اور سیکیورٹی چیلنجز کے باوجود سرکاری جامعات کو مضبوط بنانے اور پسماندہ علاقوں میں اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کے لیے بھرپور کوششیں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی عرصے میں فیکلٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت بی زیڈ یو کو 100 پی ایچ ڈی اسکالرشپس دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ آج بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ ہے، جو ہزاروں طلبہ کو تعلیم فراہم کر رہی ہے اور تدریس، تحقیق اور علاقائی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اپنی پوری عوامی زندگی میں انہوں نے تعلیم کو قومی ترقی، سماجی انصاف اور جمہوری استحکام کی بنیاد سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم پر سرمایہ کاری کوئی خرچ نہیں بلکہ طویل المدتی قومی ذمہ داری اور ریاستی ترجیح ہے۔اس موقع پر وائس چانسلر بی زیڈ یو ڈاکٹر زبیر اقبال نے یونیورسٹی کی درجہ بندی میں بہتری اور گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران اٹھائے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی مجموعی بہتری کے لیے جامع پانچ سالہ حکمتِ عملی تیار کی جا چکی ہے۔صدر اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن ڈاکٹر بنیامین نے فیکلٹی کو درپیش مسائل اجاگر کرتے ہوئے یونیورسٹی کی بہتری کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں جنوبی پنجاب اور بی زیڈ یو کا محسن قرار دیا۔




































Visit Today : 80
Visit Yesterday : 538
This Month : 15644
This Year : 15644
Total Visit : 120632
Hits Today : 188
Total Hits : 485731
Who's Online : 7























