’’انمول پنکی‘‘ کا نیٹ ورک… گرفتاری، شادیاں اور پھر بھی دھندہ جاری؟
آخر منشیات مافیا اتنا بے خوف کیوں ہے؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں منشیات فروشی اب صرف ایک جرم نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا منظم مافیا بن چکا ہے جس نے معاشرے، نوجوان نسل اور قانون نافذ کرنے والے نظام سب کو چیلنج کر رکھا ہے۔ ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی بڑے کردار کا نام سامنے آتا ہے، خبریں بنتی ہیں، ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں، چھاپے پڑتے ہیں، مگر پھر اچانک خاموشی چھا جاتی ہے۔ حالیہ دنوں سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ’’انمول پنکی‘‘ نام ایک بار پھر موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایسے دعوے سامنے آ رہے ہیں جنہوں نے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ چند سال قبل لاہور میں ایک پولیس افسر نے ’’انمول پنکی‘‘ کو گرفتار کیا، بعد ازاں دونوں کے درمیان قربت بڑھی اور پھر شادی ہوگئی۔ اس کے بعد وکلا سے تعلقات اور شادی کی اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں۔ اگر یہ تمام دعوے حقیقت کے قریب بھی ہیں تو یہ سوال نہایت سنگین ہو جاتا ہے کہ آخر ایک مبینہ منشیات فروش کس طرح اتنے طاقتور روابط قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے؟ کیا یہ صرف ایک فرد کی کہانی ہے یا اس کے پیچھے ایک ایسا منظم نیٹ ورک موجود ہے جو قانون، طاقت اور اثر و رسوخ کے درمیان محفوظ راستے بنا لیتا ہے؟
سب سے حیران کن بات وہ مبینہ بیان ہے جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ ’’اگر مجھے پولیس پکڑ بھی لے تو کاروبار جاری رہے گا، رابطے میرے ہی نمبر سے چلیں گے، جانشین بھی مقرر ہے۔‘‘ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ صرف ایک خاتون کا اعتماد نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منشیات فروشی اب کسی ایک شخص پر منحصر نہیں رہی بلکہ یہ ایک مکمل کارپوریٹ نیٹ ورک کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں گرفتاری صرف ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے۔
یہی وہ پہلو ہے جو عوام کو خوفزدہ کر رہا ہے۔ ایک عام شہری اگر معمولی جرم میں ملوث ہو جائے تو اس کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے، مگر دوسری طرف ایسے لوگ موجود ہیں جو کھلے عام یہ دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کا کاروبار کسی ایک گرفتاری سے بند نہیں ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آخر انہیں یہ اعتماد کہاں سے ملتا ہے؟
منشیات کا کاروبار اب گلی محلوں سے نکل کر سوشل میڈیا، پوش علاقوں، نجی پارٹیوں اور نوجوان نسل کے فیشن کلچر تک پہنچ چکا ہے۔ آئس، کوکین، شیشہ اور دیگر ڈرگز کو اس انداز میں فروغ دیا جا رہا ہے جیسے یہ کوئی معمول کی چیز ہو۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ اس زہر کا سب سے بڑا شکار نوجوان نسل بن رہی ہے۔ والدین خوف میں مبتلا ہیں، تعلیمی ادارے پریشان ہیں، مگر اس کے باوجود یہ کاروبار رکنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں انسدادِ منشیات کے لیے کئی ادارے موجود ہیں۔ پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس، حساس ادارے، سائبر کرائم ونگ اور دیگر متعلقہ محکمے سب قائم ہیں، مگر سوال وہی ہے کہ پھر بھی یہ نیٹ ورک اتنے مضبوط کیوں ہیں؟ کیوں ہر کچھ عرصے بعد کوئی نیا نام، نیا گروہ اور نیا اسکینڈل سامنے آ جاتا ہے؟
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ منشیات فروشی صرف چند ڈیلرز تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے ایک مکمل چین کام کرتی ہے۔ سپلائرز، سہولت کار، مالی معاون، خفیہ رابطے، سیاسی اثر و رسوخ اور بعض اوقات مبینہ اندرونی معلومات رکھنے والے کردار بھی اس کاروبار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار چھوٹے کردار پکڑے جاتے ہیں مگر اصل سرغنہ محفوظ رہتے ہیں۔
عوام کے ذہنوں میں یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کیا قانون صرف کمزور کے لیے سخت ہے؟ اگر ایک غریب عورت دو وقت کی روٹی کے لیے جرم کرے تو فوراً اسے ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے، مگر وہ لوگ جو نوجوان نسل میں زہر بانٹ رہے ہیں، ان کے چہروں پر خوف کے بجائے اعتماد کیوں نظر آتا ہے؟ یہی تضاد عوامی غصے کو جنم دے رہا ہے۔
سوشل میڈیا نے اب چیزوں کو بدل دیا ہے۔ پہلے بہت سی کہانیاں دب جاتی تھیں، مگر آج ہر تصویر، ہر ویڈیو اور ہر بیان عوام تک فوراً پہنچ جاتا ہے۔ لوگ دیکھ رہے ہیں، سوال پوچھ رہے ہیں اور جواب مانگ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ’’انمول پنکی‘‘ صرف ایک نام نہیں رہا بلکہ ایک علامت بن چکا ہے — اس نظام کی علامت جہاں گرفتاری کے باوجود کاروبار جاری رہنے کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست صرف وقتی کارروائیوں پر اکتفا نہ کرے بلکہ پورے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے مستقل اور غیر جانبدار حکمت عملی اپنائے۔ صرف ایک شخص کو گرفتار کرنا کافی نہیں، بلکہ اس کے مالی ذرائع، رابطے، سہولت کار اور سرپرست کرداروں تک پہنچنا ضروری ہے۔ اگر واقعی کسی منشیات فروش کا جانشین پہلے سے مقرر ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کے خوف کے بجائے نظام کی کمزوری پر اعتماد موجود ہے۔
تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم، والدین کی نگرانی، سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ اور سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ کیونکہ اگر آج بھی سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل شاید یہ زہر ہر گھر کی دہلیز تک پہنچ چکا ہوگا۔
آج عوام صرف خبریں نہیں بلکہ عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ منشیات کے خلاف جنگ میں صرف چھوٹے کردار نہیں بلکہ اصل مافیا بھی قانون کی گرفت میں آئے۔ کیونکہ اگر گرفتاری کے باوجود کاروبار جاری رہنے لگے تو پھر سوال صرف ایک فرد کا نہیں رہتا، پورا نظام کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے۔
اور شاید اسی لیے آج ہر زبان پر ایک ہی سوال ہے…
آخر منشیات مافیا اتنا بے خوف کیوں ہے؟