عکسِ ہنر درد محبت اور شعور کا آئینہ

تحریر: ایس پیرزادہ

ارشد اقبال آرِش کی کتاب عکسِ ہنر محض غزلوں نعتوں اور شاعری کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک حساس دل باشعور ذہن اور دردِ زمانہ رکھنے والے قلمکار کی فکری اور جذباتی ترجمانی ہے
آرِش صاحب نے اپنے پیش لفظ میں جس کرب جدوجہد ادبی بے حسی اور تخلیقی سفر کا ذکر کیا ہے وہ ایک سچے لکھاری کی زندگی کی مکمل عکاسی کرتا ہے آج کے اس تیز رفتار اور مادیت زدہ دور میں جہاں ادب اور اہلِ قلم کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہاں ارشد اقبال آرِش جیسے لوگ اپنی سوچ قلم اور تخلیق کے ذریعے ادب کے چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں ان کی شاعری میں محبت بھی ہے درد بھی زمانے کی تلخ حقیقتیں بھی اور امید کی روشنی بھی یہی وجہ ہے کہ عکسِ ہنر قاری کو محض اشعار نہیں دیتی بلکہ احساسات کی ایک پوری دنیا میں لے جاتی ہے کتاب عکسِ ہنر کے آغاز ہی میں ارشد اقبال آرِش کا یہ کلام قاری کو ایک روحانی اور فکری دنیا میں لے جاتا ہے جہاں ہر طرف خالقِ کائنات کی قدرت اور حکمت جلوہ گر ہے یہ کلام حمدیہ انداز رکھتا ہے جس میں اللہ پاک کی عظمت کائنات پر اس کی مکمل گرفت اور انسان کی عاجزی کو نہایت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہے
اشعار ملاحظہ ہوں
لا مکان ہے مکاں ہے اس کا
یہ زمین اور زماں ہے اس کا
یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ پاک کسی جگہ یا وقت کا محتاج نہیں بلکہ پوری کائنات اور وقت اسی کی ملکیت ہیں
ہم تو ہیں خاک چھاننے کے لیے
ورنہ یہ خاک دان ہے اس کا
یہاں انسان کی عاجزی اور کائنات میں اس کی حیثیت کو بیان کیا گیا ہے کہ انسان محض ایک کمزور مخلوق ہے جبکہ پوری زمین اللہ کی ملکیت ہے
اس کی گرفت میں سب کچھ ہے
جو یقین ہے گمان ہے اس کا
یہ شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے اختیار میں ہے چاہے وہ یقینی ہو یا انسانی گمان
اس کی سمتیں ہیں ہر طرف ارش
جس طرف جائیں دھیان ہے اس کا
یہاں اللہ کی ہمہ گیری اور ہر سمت میں اس کی موجودگی کا تصور پیش کیا گیا ہے اور ارشد اقبال آرِش کی فکری و روحانی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے ان کی غزل
عجب سماں ہے کوئی دن رات ہوتی ہے
کہ بس دکھوں میں بسر یہ حیات ہوتی ہے
دل کے اندر اتر جانے والی کیفیت رکھتی ہے اس شعر میں شاعر نے زندگی کی تلخیوں اور مسلسل آزمائشوں کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے
کبھی کبھی تو چلیں ساتھ غمِ زمانے کے
کبھی کبھی مری تنہائی ساتھ ہوتی ہے
میں ایک حساس شاعر کی داخلی دنیا صاف جھلکتی ہے جہاں انسان ہجوم میں رہ کر بھی تنہائی کا مسافر ہوتا ہے
اسی طرح دوسری غزل کے اشعار
دل میں شمع سی اک جلی جائے
دور تک جس کی روشنی جائے
امید محبت اور روشنی کا اظہار ہیں آرِش صاحب کی شاعری قاری کے دل میں ایک نرم احساس جگاتی ہے ان کے اشعار میں درد بھی مہذب ہے اور محبت بھی باوقار
غم کی گٹھڑی اتار دیں سر سے
زندگی ہنس کے پھر جی جائے
جیسے اشعار زندگی کے تھکے ہوئے مسافروں کو حوصلہ دیتے محسوس ہوتے ہیں کتاب کے آخری صفحات بھی قاری کو ایک گہری فکری دنیا میں لے جاتے ہیں یہ اشعار صرف اختتامیہ نہیں بلکہ ایک تخلیق کار کے باطن جدوجہد اور احساسات کی مکمل تصویر ہیں
فکر و خیال کے ہیں جلوے دکھائے ہم نے
گلہائے حرف اس میں تازہ سجائے ہم نے
یہ اشعار اس بات کی علامت ہیں کہ شاعر نے اپنے لفظوں کے ذریعے نئے احساسات اور نئی سوچ کو جنم دیا
سر میں جنوں سمایا پہچان ہو ہماری
راستے جدا جہاں میں اپنے بنائے ہم نے
میں آرِش صاحب کی انفرادیت اور ادبی خودداری نمایاں نظر آتی ہے انہوں نے ہجوم میں گم ہونے کے بجائے اپنی الگ پہچان بنانے کی کوشش کی جو ہر سچے تخلیق کار کی نشانی ہوتی ہے
کرتے ہیں اشک سارے اندر کی ترجمانی
در پردہ سب حقائق تم سے چھپائے ہم نے
یہ شعر دل کے ان خاموش دکھوں کی ترجمانی کرتا ہے جو اکثر لفظوں میں بیان نہیں ہو پاتے
ارشد اقبال آرِش ایک بہترین شاعر ادیب کالم نگار اور مفکر ہیں ان کی تحریروں میں فکری گہرائی سماجی شعور اور انسانی احساسات کی خوبصورت جھلک نمایاں نظر آتی ہے ارشد اقبال آرِش صاحبِ کی کتاب عکسِ ہنر ان کی تخلیقی بصیرت اور ادب سے سچی وابستگی کا خوبصورت عکس ہے
مجھے ذاتی طور پر اس کتاب کا مطالعہ بے حد پسند آیا کیونکہ اس میں محض شاعری نہیں بلکہ ایک سچے قلمکار کے احساسات مشاہدات اور زندگی کے تجربات شامل ہیں آرِش صاحب کی تحریریں دل کو چھوتی ہیں اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں یقیناً عکسِ ہنر ادب دوست حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور قارئین کے دلوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب رہے گی اور شاید پوری کتاب کا نچوڑ اس آخری شعر میں سمٹ آتا ہے
آرِش تمام دنیا چپ چاپ سو رہی تھی
ایسے میں زخمِ دل کے زخم جگائے ہم نے