تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے نے بتایا کہ اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو، تین اہم نکات پر اختلاف رائے کے باعث تاحال جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا۔ بی بی سی اردو کے مطابق ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ مذاکرات ’بد اعتمادی کے ماحول‘ میں شروع ہوئے تھے اور ایک نشست میں معاہدہ طے پائے جانے کا امکان کم تھا۔ ’یہ مذاکرات 40 روزہ جنگ کے بعد، بے اعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں ہوئے۔ فطری طور پر یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی تھی کہ محض ایک ملاقات میں کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ کسی نے ایسی توقع نہیں کی تھی۔ اسماعیل بقائی کے مطابق، ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز جیسے کچھ نئے معاملات بھی شامل کر دیئے گئے جن میں سے ہر ایک کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے ایران، پاکستان اور خطے کے ’دیگر دوستوں‘ کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ’سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی، یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے۔‘