ملتان:  آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ فیڈریشن جنوبی پنجاب کے صدر اور چیمبر آف سمال ٹریڈرز جنوبی پنجاب کے نائب صدر رانا محمد اصغر نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ٹرانسپورٹ برادری اور عوام کے لیے تباہ کن قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ بنتا تھا، مگر حکومت پنجاب نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے صرف 30 فیصد اضافہ کیا، جسے ٹرانسپورٹرز نے مجبوری کے تحت قبول کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں یہ اضافہ بھی مسائل کا حل نہیں بلکہ خسارے کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹ کا پہیہ صرف پیٹرول یا ڈیزل سے نہیں چلتا بلکہ موبل آئل، ٹائرز، سپیئر پارٹس اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس نے اخراجات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ پالیسیوں کے باعث ٹرانسپورٹرز شدید مالی دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملک میں مہنگائی کے طوفان نہیں بلکہ سونامی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جس کا براہ است بوجھ عام شہریوں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو اٹھانا پڑے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز پہلے ہی بے جا چالان، بھاری ٹول ٹیکسز اور عملے کی تنخواہوں جیسے اخراجات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، ایسے میں کاروبار کا تسلسل برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔انہوں نے حکومت کے فیصلوں کو ٹرانسپورٹ برادری کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور متعلقہ پالیسیوں پر نظر ثانی کر کے ٹرانسپورٹرز اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ ٹرانسپورٹ برادری اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے ظالمانہ فیصلوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، کیونکہ عام شہریوں سے جینے کا حق نہیں چھینا جا سکتا۔