دو ماہ کی حاملہ لڑکی کے مبینہ زیادتی کیس میں پولیس کی مبینہ غفلت، متاثرہ خاندان نے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی اپیل کر دی
جتوئی (رپورٹ: صحافی) مبینہ زیادتی کے سنگین واقعہ میں میڈیکل رپورٹ کے ذریعے حمل ثابت ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہ ہونے پر متاثرہ خاندان نے پولیس کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انصاف کی اپیل کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق علشبہ نامی لڑکی، رہائشی قدیر آباد جتوئی، کے ساتھ مبینہ طور پر شاکر بلوچ نامی شخص، رہائشی بستی عیسن والا جتوئی جنوبی نے دو ماہ قبل زبردستی کی۔ اہل خانہ کے مطابق ملزم نے لڑکی کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے کسی کو واقعہ بتایا تو اس کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائے گی، جس کے باعث لڑکی خوفزدہ ہو کر خاموش رہی۔اہل خانہ کے مطابق جب لڑکی کی طبیعت بگڑی تو گھر والوں نے دریافت کیا تو اس نے واقعہ بیان کیا۔ بعد ازاں مجسٹریٹ کو درخواست دی گئی، جس پر عدالت کے حکم سے لڑکی کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ میڈیکل رپورٹ میں لڑکی کے حاملہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جو واقعہ کی سنگینی کو واضح کرتی ہے۔متاثرہ خاندان کا الزام ہے کہ تمام شواہد اور عدالت کے حکم کے باوجود پولیس اسٹیشن تھانہ جتوئی کے افسران مقدمہ درج کرنے میں تاخیر سے کام لے رہے ہیں اور انہیں صلح یا راضی نامہ کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔متاثرہ لڑکی اور اہل خانہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا جائے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔اہل خانہ نے کہا ہے کہ اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو وہ اپنے قانونی حق کے حصول کے لیے مزید اعلیٰ فورمز سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔







































Visit Today : 220
Visit Yesterday : 475
This Month : 4893
This Year : 52729
Total Visit : 157717
Hits Today : 1553
Total Hits : 702540
Who's Online : 7




















