لوٹ مار کا نظام اور بے اختیار عوام
“لوٹ مار کا نظام اور بے اختیار عوام”
ملک ارشد اقبال بھٹہ
پاکستان میں عرصہ دراز سے ہمہ قِسم مافیاز کا راج ہے جن کا واحد مقصد ہر طرح سے دولت لُوٹنا ہے ۔ قومی دولت کی باضابطہ لُوٹ مار ‘ کرپشن اور مٙن پسندوں کو نوازنے کا باعث ہر طرح کی ” سبسڈیز ” اور ہر پندرہ دن بعد پیٹرولیم مصنوعات کی جائزہ پالیسی فوری طور پر ختم کی جانی چاہیے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے ۔
پاکستان میں تیل کے جہاز بغیر کسی روک ٹوک یا اضافی خوچ کے برابر پہنچ رہے ہیں اور اسرائیل ایران جنگ بندی کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں ‘ پاکستان کے سر جنگ رکوانے کا سہرہ بھی بندھنے لگا ہے تو پھر عوام پر مسلسل پیٹرول بم گرانے کی منطق سمجھ سے بالا ہے ۔ ذاتی تشہیر اور مٙن پسندوں کو نوازنے والا سبسڈی کا مکروہ راستا بند کر کے قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے ۔
جب تک ہر پندرہ دن بعد پیٹرول کی قیمتیں بڑھتی یا کم ہوتی رہیں گی اور سبسڈی کا راستا کھلا رہے گا مہنگائی پر کسی صورت قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ ہرحکومت کا یہ دعویٰ رہتا ہے کہ مہنگائی کا بوجھ امیروں پر منتقل کیا جاتا ہے لیکن کوئی ارسطو یہ نہیں بتاتا کہ یہ امیر لوگ کہاں سے کما کر بوجھ اٹھائیں گے ؟
اوپر سے نیچے تک کرپشن ہی کرپشن ہے یا بدانتظامی ۔ پولیس کی وردیاں بدلنے یا انہیں گاڑیاں فراہم کرنے اور ماڈل عمارتیں تعمیر کرنے سے قانون بالادست ہو گا نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہو گا ۔ ذہنی تعمیر و ترقی مقصود ہے جس کی طرف بیان بازی سے زیادہ کوئی توجہ نہیں ۔
نئے نئے ادارے یا فورسز بنانے سے کسی حد تک وقتی نتائج تو حاصل ہو سکتے ہیں مگر ایسے اقدامات سے کوئی ادارہ مضبوط نہیں ہو سکتا نہ ہی عوام کے مسائل و مشکلات کا پائیدار حل ہو سکتا ہے ۔
ہر نئے دن ایک نیا امدادی کارڈ یا پیکیج دینا عوامی خدمت ہے نہ ملکی تعمیر و ترقی یا خوشحالی ہاں البتہ فائلوں کا پیٹ اور لٹیروں کی تجوریاں ضرور بھرتی ہیں اور قوم دن بدن ہڈ حرام کام چور اور سُست و کاہل ہوتی جا رہی ہے ۔ اس غیور قوم کو جان بوجھ کر بھکاری و کاہل بنایا جا رہا ہے ۔ جس طرح حکمران دنیا بھر سے بھیک مانگتے نہیں شرماتے اسی طرح نچلے طبقات ایک دوسرے سے مانگتے ‘ چھینتے اور ادھار لے کر واپس نہیں کرتے کیونکہ کوئی قانون انہیں سزا دینے کے لیے نہیں ہے جس کا انہیں خوف ہو ۔ تقریبا” ہر سرکاری کرسی کی قیمت مقرر ہے جو ادا کرنے کے قابل ہے وہ بے دھڑک قانون شکنی کر کے معاشرے میں مہذب و معتبر بنا پھرتا ہے ۔
چھوٹے چھوٹے جرائم یا کرپشن ہمارے اداروں کی گرفت میں ضرور آتے ہیں مگر جتنی بڑی کرپشن اتنی جلدی مُک مُکا ۔۔ جتنا بڑا جرم اتنی بڑی پذیرائی و میڈیا کوریج معمول بن چکے ہیں ۔ خاندانی و شرفا اور ایماندار و فرض شناد منہ چھپائے جبکہ بددیانت ‘ بدکردار ‘ بدقماش ‘ اُٹھائی گیرے اور راشی قانون و سیاستدانوں کی چھتر چھایہ تلے یعنی اشیرباد سے دندناتے پھرتے ہیں ۔
جب سے اسلامی جمہوریہ میں اعلیٰ سطح پر بلیک میلنگ اور بعض اوقات اعلیٰ ترین جاہ و منصب کے حصول کی خاطر غیر اخلاقی ویڈیوز کا باضابطہ استعمال شروع ہوا ہے اور ٹک ٹاکرز کو قومی میڈیاز نے پذیرائی بخشی ہے تب سے نہ صرف اخلاقیات کا جنازہ نکلا ہے بلکہ اس اخلاقی کرپشن سے نئے راستے کھلے ہیں جس سے اچھے بُرے کی تمیز بھی ” جاتی ” رہی ہے ۔
مہنگائی تو ایک بہانہ ہے ‘ قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک تمام اخبارات آٹے ‘ چینی ‘ ملاوٹ ‘ ذخیرہ اندوزی ‘ کرپشن ‘ لمبی قطاروں اور مہنگائی کی سُرخیاں لگا رہے ہیں مگر کیا آج تک کسی کی شنوائی ہوئی ‘ امزکورہ برائیوں میں کمی ہوئی ‘ حکمرانوں کے بیانوں میں تبدیلی یا افسروں کی کاروائیوں کے مثبت نتائج نکلے ‘؟؟؟ نہیں بالکل نہیں ذرہ برابر نہیں اور جب تک کمشنری رینک پر آنکھوں سے ” کالا چشمہ ” سجا رہے گا حالات جوں کے توں ہی رہیں گے بلکہ ان میں مزید بگاڑ پیدا ہو گا ۔ اگر مارکیٹوں میں بازاروں میں خرید و فروخت اور قیمتوں کے کنٹرول کے لیے چھاپے بڑی بڑی قیمتی گاڑیوں میں اپنے لاو لشکر کے ساتھ جا کر اس کمشنری ٹولے نے بیش قیمت کالے چشمے لگا کر مارنے ہیں تو جناب پرائس کنٹرول مجسڑیٹس کس لیے بھرتی کر رکھے ہیں ؟ اگر سڑکیں ‘ پارکس وغیرہ کمشنر نے بنانے ہیں تو متعلقہ ادارے کس لیے قومی خزانے پر بوجھ بنے ہوئے ہیں ؟ نجی کیمرہ مینوں کے ہمراہ صحافیوں نے بدکاری کے اڈوں ‘ ملاوٹیوں اور جعلی مصنوعات بنانے والوں کو پکڑنا ہے تو حضور ان برائیوں کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ادارے اور لاکھوں ملازمین و افسران کس مرض کی دوا ہیں ؟
مٙیں اکثر کہتا ہوں کہ کئی ضیاالحقی گناہ نظرانداز کیے جا سکتے ہیں مگر اس معاشرے سے جزا و سزا کے خاتمے اور غیر جماعتی انتخابات سمیت کئی جرائم ایسے ہیں کہ جن سے ہمارے معاشرے کا چہرا بگڑ گیا ہے ۔ سزا و جزا کے خاتمے سے ہمہ قسم اخلاقی برائی نے جنم لیا ہے ۔ مٙیرٹ کا قتل کیا ہے ‘ اچھے کو اچھا اور بُرے کو بُرا کہنے اور حوصلہ افزائی و حوصلہ شکنی کے خاتمے سے ہمارا معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر رہ گیا ہے ۔ بدقسمتی سے اس مملکتِ خداداد اور قوم کو نہایت منصوبہ بندی اور طریقے و سلیقے سے تباہ کیا جا رہا ہے ۔۔










































Visit Today : 608
Visit Yesterday : 812
This Month : 2944
This Year : 50780
Total Visit : 155768
Hits Today : 3108
Total Hits : 685788
Who's Online : 8






















