ملتان(صفدربخاری سے) ملتان یونین آف جرنلسٹس نے حکومت پنجاب کی جانب سے “جرنلسٹس سپورٹ فنڈ” میں ملتان کے صحافیوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور غیر ضروری تاخیر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایم یو جے کے صدر احتشام الحق مرزا اور جنرل سیکرٹری جاوید اقبال عنبر نے کہا کہ “جرنلسٹس سپورٹ فنڈ” کے لیے مقامی صحافیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی درخواستوں پر اکثر غیر ضروری تاخیر کی جاتی ہے اور کئی درخواستیں چھ ماہ سے ایک سال تک زیر التوا رہتی ہیں، جس کے باعث ضرورت مند صحافیوں کو بروقت مالی امداد نہیں مل پاتی۔یہ صورتحال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب فنڈ کی امدادی حد بھی مختلف رکھی گئی ہو۔احتشام الحق مرزا نے کہا کہ ملتان اور جنوبی پنجاب کے صحافیوں کے لیے اس فنڈ کے تحت زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ روپے جاری کئے جاتے ہیں جبکہ اسی فنڈ کے تحت لاہور کے صحافیوں کو چار سے پانچ لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جاتی ہے جو کہ واضح طور پر ناانصافی اور امتیازی سلوک ہے کیونکہ ملک بھر کے صحافی ایک ہی پیشہ ورانہ ماحول اور مشکلات میں کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے قائم کیا گیا “جرنلسٹس سپورٹ فنڈ “دراصل صحافیوں کی فلاح کے لیے بنایا گیا ہے جس کے تحت بیمار صحافیوں کے علاج معالجے، بیٹیوں کی شادی اور دیگر ہنگامی مالی ضروریات کے لیے امداد فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم امداد کی حد میں فرق اور درخواستوں کے اجرا میں تاخیر اس فلاحی منصوبے کے مقصد کو متاثر کر رہی ہے جبکہ فنڈ سے متعلق قائم کمیٹی میں ملتان کا کوئی نمائندہ شامل نہیں، جس کے باعث یہاں کے صحافیوں کے مسائل مؤثر انداز میں سامنے نہیں آ پاتے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی میں ملتان سے بھی نمائندگی دی جائے۔جاوید اقبال عنبر نے کہا کہ “جرنلسٹس سپورٹ فنڈ” کی امدادی حد کو پورے صوبے کے لیے یکساں کیا جائے اور ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے صحافیوں کے لیے بھی اسے پانچ لاکھ روپے تک بڑھایا جائے۔ صحافی ایک جیسے حالات اور ورکنگ کنڈیشنز میں کام کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ مالی امداد کے معاملے میں کسی قسم کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فنڈ کی منظوری اور اجرا کے عمل کو بھی تیز اور شفاف بنایا جائے تاکہ بیمار، مجبور یا مالی مشکلات کے شکار صحافیوں کو بروقت مدد مل سکے اور انہیں دفاتر کے طویل چکر نہ لگانے پڑیں۔