جعلی رجسٹریوں کا گھناؤنا کھیل ,,,, ریاستی نظام پر ایک کاری ضرب
جعلی رجسٹریوں کا گھناؤنا کھیل — ریاستی نظام پر ایک کاری ضرب
تحریر: کلب عابد خان03009635323
پنجاب بھر میں جاری اینٹی کرپشن کریک ڈاؤن نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بدعنوانی صرف ایک فرد کا جرم نہیں بلکہ ایک پورا منظم نیٹ ورک ہوتا ہے، جو ریاستی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ حالیہ کارروائی میں ملتان ریجن سے سامنے آنے والا جعلی رجسٹریوں کا میگا اسکینڈل اس تلخ حقیقت کی واضح مثال ہے کہ کس طرح چند مفاد پرست عناصر اپنے ذاتی فائدے کے لیے قومی خزانے اور عوامی اعتماد دونوں کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب، سہیل ظفر چٹھہ کی ہدایات پر ہونے والا یہ کریک ڈاؤن محض ایک کارروائی نہیں بلکہ ایک پیغام ہے—ایک ایسا پیغام جو ان تمام عناصر کے لیے ہے جو سرکاری نظام کو کمزور سمجھ کر اس کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ ریجنل ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ملتان، بشارت نبی کی نگرانی میں جس انداز سے اس اسکینڈل کو بے نقاب کیا گیا، وہ نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر ہے بلکہ اس عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ ریاست اب خاموش تماشائی نہیں رہے گی۔
تحقیقات سے جو حقائق سامنے آئے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ سب رجسٹرار دفاتر، جو قانونی دستاویزات کی تصدیق کا مرکز سمجھے جاتے ہیں، وہاں ہی جعلی رجسٹریوں کا ایک باقاعدہ نیٹ ورک قائم کر لیا گیا تھا۔ وثیقہ نویس، جن کا کام قانونی دستاویزات کی تیاری اور تصدیق میں مدد دینا ہوتا ہے، وہی اس دھوکہ دہی کے مرکزی کردار بن گئے۔ یہ صرف ایک مالی جرم نہیں بلکہ اعتماد کا قتل ہے—ایک ایسا اعتماد جو عوام ریاستی اداروں پر کرتے ہیں۔
کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خان کے سرپرائز وزٹ نے اس پورے معاملے کو بے نقاب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ سرکاری دفاتر میں بدعنوانی اس وقت پروان چڑھتی ہے جب نگرانی کمزور ہو جائے۔ مگر یہاں ایک اچانک معائنہ اس بڑے نیٹ ورک کے لیے زلزلہ ثابت ہوا۔ فوری ایف آئی آر کا اندراج اور کیس کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے حوالے کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت اور ارادہ مضبوط ہو تو نظام خود کو درست کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کارروائی کے دوران 28 وثیقہ نویسوں کی گرفتاری اور 500 سے زائد جعلی رجسٹریوں کی برآمدگی کسی فلمی منظر سے کم نہیں۔ اس کے ساتھ جعلی سٹیمپ پیپرز، ایف بی آر کی بوگس رسیدیں، سرکاری مہریں اور دیگر ریکارڈ کی برآمدگی نے اس نیٹ ورک کی گہرائی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کوئی وقتی یا انفرادی عمل نہیں بلکہ ایک منظم مافیا تھا جو عرصہ دراز سے سرگرم تھا۔
سب سے اہم پہلو وہ مالی نقصان ہے جو قومی خزانے کو پہنچایا گیا۔ کروڑوں روپے کی کرپشن نہ صرف ریاستی وسائل کو کمزور کرتی ہے بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ تاہم، ملزمان سے ایک کروڑ سے زائد رقم کی ریکوری اور اسے سرکاری خزانے میں جمع کروانا ایک مثبت پیش رفت ہے، جو اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ لوٹی گئی دولت واپس لانے کی سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے۔
اینٹی کرپشن حکام کا یہ بیان کہ “وثیقہ نویسوں کے روپ میں چھپے یہ کرپٹ مافیا کسی رعایت کے مستحق نہیں” درحقیقت عوامی احساسات کی ترجمانی ہے۔ عوام برسوں سے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے آئے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صرف گرفتاریاں ہی نہیں بلکہ ان مقدمات کو منطقی انجام تک بھی پہنچایا جائے۔ جائیدادوں کی ضبطگی، لائسنس کی منسوخی اور بلیک لسٹنگ جیسے اقدامات اس لیے ضروری ہیں تاکہ مستقبل میں کوئی بھی شخص اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے پہلے سو بار سوچے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بدعنوانی کا خاتمہ صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ہے۔ جب تک معاشرے میں ایمانداری کو فروغ نہیں دیا جائے گا اور کرپشن کو سماجی برائی سمجھ کر مسترد نہیں کیا جائے گا، ایسے نیٹ ورکس کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ جنم لیتے رہیں گے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی جائیدادوں کے معاملات میں احتیاط برتیں، دستاویزات کی تصدیق خود کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔
اس کیس کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف سامنے آنے والے کردار ہی نہیں بلکہ پس پردہ سہولت کار بھی قانون کی گرفت میں آئیں گے۔ اکثر بڑے اسکینڈلز میں اصل کردار پس منظر میں رہتے ہیں، مگر اگر اس بار ان تک رسائی حاصل کر لی گئی تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی۔
آنے والے دنوں میں مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں، جو یقیناً اس کیس کو مزید سنسنی خیز بنا دیں گے۔ تاہم، اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس پورے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور ایک ایسا نظام قائم کیا جائے گا جہاں جعلی رجسٹری جیسے جرائم کا تصور بھی ممکن نہ ہو۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ملتان میں سامنے آنے والا یہ اسکینڈل صرف ایک شہر یا ایک ادارے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک وارننگ ہے۔ اگر بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسے نیٹ ورکس ملک کے دیگر حصوں میں بھی جڑیں مضبوط کر سکتے ہیں۔ مگر حالیہ کارروائی نے امید کی ایک کرن ضرور پیدا کی ہے کہ ریاست اب بیدار ہو چکی ہے اور کرپشن کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے۔
یہ جنگ آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں—بس شرط یہ ہے کہ نیت صاف ہو، ارادہ مضبوط ہو اور قانون سب کے لیے برابر ہو۔










































Visit Today : 608
Visit Yesterday : 812
This Month : 2944
This Year : 50780
Total Visit : 155768
Hits Today : 3103
Total Hits : 685783
Who's Online : 8






















