4 اپریل قربانی کا نظریہ اور آج مفادات کی سیاست

تحریر: ایس پیرزادہ

4 اپریل محض ایک تاریخ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ دردناک باب ہے جو ہر سال ہمیں قربانی جمہوریت اور حق و سچ کی قیمت یاد دلاتا ہے آج ہم زوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی منا رہے ہیں وہ رہنما جنہوں نے اپنی زندگی پاکستان کے عوام جمہوریت اور خودمختاری کے لیے وقف کر دی
بھٹو صرف ایک سیاستدان نہیں تھے وہ ایک نظریہ تھے انہوں نے اس ملک کے عام آدمی کو زبان دی مزدور کو حوصلہ دیا کسان کو شناخت دی اور محروم طبقے کو یہ احساس دلایا کہ وہ بھی اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک باوقار شناخت دی اور قوم کو خود اعتمادی کا سبق سکھایا 4 اپریل 1979 کو ایک ایسا فیصلہ سنایا گیا جسے تاریخ آج بھی متنازع سمجھتی ہے ایک منتخب وزیر اعظم کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا مگر ان کا نظریہ نہ دب سکا نہ ختم ہوا آج بھی وہ کروڑوں دلوں میں زندہ ہیں یہ صرف ایک فرد کی قربانی نہیں تھی بلکہ ایک پورے خاندان کی مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کی داستان ہے بھٹو خاندان نے جمہوریت کے لیے جو قیمت ادا کی وہ تاریخ میں کم ہی ملتی ہے بے نظیر بھٹو نے بھی اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا اس خاندان کے دیگر افراد کارکنان اور جیالوں نے بھی جیلیں کاٹیں قربانیاں دیں مگر جمہوریت کا پرچم سرنگوں نہ ہونے دیا
بھٹو شہید نے ہمیں سکھایا کہ عوامی طاقت سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے، اور حق و سچ کی راہ میں دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی ان کی جدوجہد ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں اگر نیت سچی ہو اور مقصد عوام کی بھلائی ہو تو تاریخ ہمیشہ آپ کو سرخرو کرتی ہے
یہ حقیقت ہے کہ بھٹو خاندان نے صرف سیاست نہیں کی بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی اسی جدوجہد کے لیے تیار کیاایک ایسی تربیت جس میں ذاتی مفاد نہیں بلکہ عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دی گئی یہی وجہ ہے کہ یہ خاندان آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے
میں ذاتی طور پر یہ محسوس کرتی ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو سے شروع ہونے والی وہ نظریاتی سیاست جسے بے نظیر بھٹو نے بے مثال جرات کے ساتھ آگے بڑھایا آج اپنی اصل روح سے کہیں دور دکھائی دیتی ہے وہ جیالے اور نظریاتی کارکن جو کوڑے کھاتے رہےجیلیں کاٹتے رہے اور اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے آج عملی سیاست میں کم نظر آتے ہیں موجودہ منظرنامے میں مفادات کی سیاست وقتی وابستگیاں اور مفاد پرست عناصر اس نظریے پر غالب آتے دکھائی دیتے ہیں جو کبھی عوامی طاقت اصول پسندی اور قربانی کی بنیاد پر کھڑا تھا یہ ایک ذاتی رائے ہے مگر دل میں ایک خلش ضرور چھوڑ جاتی ہے کہ وہ اصل روح اور نظریاتی پہچان جس نے اس جماعت کو جنم دیا آج دھندلا سی گئی ہے
میں دعا گو ہوںکہ اللہ پاک بھٹو خاندان کے تمام شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سلام ایک نظریہ جو کبھی نہیں مرتا

نظریہ بیچ دیا گیا تو قافلے بکھر گئے
جو سچ کے تھے مسافر وہی راستوں میں رہ گئے