ملتان : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلمان صدیقی،انجمن تاجران پاکستان جنوبی پنجاب کے صدر عارف فصیح اللہ، قومی تاجراتحاد کے صدر سلطان محمود ملک نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ چندروز قبل ہوشربا اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخ کے بدترین اضافے نے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے جس سے عام آدمی کی زندگی مزید اجیرن ہو گئی ہے اس حوالے سے مرکزی تنظیم تاجران اور دیگر تاجر تنظیموں نے حکومت کے اس اقدم کے خلاف احتجاجی تحریک چلنے کے حوالے سے آئندہ دوروز میں مشترکہ اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا انہوں نے کہا کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں تقریبا 112 روپے فی لیٹر اور ڈیل کی قیمتوں میں تقریبا 200 روپے لیٹر اور مٹی کا تیل 300 روپے لیٹر سمیت بجلی کی قیمتوں میں 600سے900سوروپے تک ظالمانہ اضافہ کیا گیا ہے جو حکومتی معاشی پالیسیوں کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے اور یہ اضافہ غریب عوام کو زندہ دفن کرنے کے مترادف ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی شاہ خرچیوں اور پروٹوکول سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں قومی اسمبلیوں کے ممبران، سینٹ ممبران،سرکاری افسران کے مراعات میں لاکھوں روپے کا ہوشربا اضافہ کیا گیا حال ہی میں پنجاب کے چیف مسٹر کے لیے 12 ارب روپے کا جہاز اور چیئرمین سینٹ کے لیے 9 کروڑ روپے کی گاڑی خرید کی گئی اسی طرح بڑے سرکاری افسران کے لیے 2800 سی سی گاڑیاں خرید کی جارہی ہیں اور ان گاڑیوں کے لیے پٹرول کے استعمال کی حد مقرر نہیں کی گئی۔ اور ان سے وابستہ افسروں کے لیے کروڑ وں روپے کے محلات تعمیر کیے جا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ نااہل حکمران پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ کو ایران اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے عالمی حالات کو جواز بنا کر تمام بوجھ براہِ راست عوام پر ڈال دینا غریب عوام کے ساتھ ناانصافی ہے جبکہ اسی صورت حال پاکستان کے علاوہ بھارت، بنگلادیش، سری لنکا اور چین،آسٹریلیا بھی بری طرح متاثر ہیں چین میں پیٹرولیم کی قیمتوں میں 1 فیصد بھی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ انڈیا میں بھی تقریبا جنگ سے پہلے والی قیمتیں برقرار میں سری لنکا اور بنگلہ دیش میں صرف 15 روپے اضافہ کیا گیا ہے تمام یورپی ممالک میں بھی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ نہیں کیا گیاخواجہ سلمان صدیقی نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے کرائے 70فیصد بڑھ گئے ہین اور اشیائے خوردونوش سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا گیا ہے جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں، مگر حکمرانوں کو ان کے مسائل کا کوئی احساس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو فوری طور پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کرے اور تاجروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کرے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہ کی تو ملک بھر کی تاجر برادری احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے اور عوام کے ساتھ مل کر ہر فورم پر اس فیصلے کے خلاف بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔