ملتاں: قومی تاجر اتحاد پاکستان کے مرکزی صدر سلطان محمود ملک، چیئرمین چوہدری شوکت علی خان، ضلعی صدر ملک مقبول کھوکر، سٹی صدر ملک اقبال جاوید، ملک الطاف لنگاہ اور شیخ ظفر اقبال کی قیادت میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بھاری اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے کے شرکاء نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے حکومت سے فوری طور پر قیمتیں واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر سلطان محمود ملک نے کہا کہ پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ تاجروں اور عوام کو “زندہ درگور” کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی کے باعث بازاروں میں سناٹا ہے اور اب مزید اضافے سے تاجر دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو معیشت کا پہیہ جام ہو جائے گا، فیکٹریاں اور ملیں بند ہو جائیں گی اور مزدور طبقہ بے روزگار ہو جائے گا۔ “غریب آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو چکا ہے اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑنے کا خدشہ ہے،” انہوں نے کہا۔تاجر رہنماؤں نے کہا کہ گیس کی قلت کے بعد ایل پی جی کی قیمتیں بھی 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہیں، جس سے عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند روز قبل عوام کو ریلیف دینے کے دعوے کیے گئے مگر اس کے برعکس اچانک بھاری اضافہ کر دیا گیا۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ وزراء اور اعلیٰ حکام کی مراعات، سرکاری گاڑیوں کے طویل پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات کو فوری کم کیا جائے اور پٹرول کے استعمال پر حد مقرر کی جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔احتجاجی مظاہرے میں شریک تاجروں نے متنبہ کیا کہ اگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔