ملتان:  سینئر رہنماء و سیکرٹری قانون پنجاب و تحریک انصاف بیرسٹر ملک تیمور الطاف مہے نے آٹزم کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ آٹزم ڈے کیا ہے اور اس کا کیا مقصد ہے ہمارے معاشرے میں خصوصی بچوں (Special Children) کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ یہ بچے بھی اسی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں بھی وہی بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں جو دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ خصوصی بچوں کے لیے تعلیم، صحت، اور تحفظ کے مساوی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہزاروں ایسے بچے موجود ہیں جو جسمانی یا ذہنی معذوری کا شکار ہیں، مگر مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار نہیں کر پاتے۔ تعلیمی اداروں میں خصوصی بچوں کے لیے علیحدہ سہولیات، تربیت یافتہ اساتذہ، اور جدید وسائل کی شدید کمی ہے جس کے باعث یہ بچے پیچھے رہ جاتے ہیں ان بچوں کوبھی آگے بڑھنے کے لیے مواقع کی ضرورت ہے اگر انہیں بہتر تربیت، مثبت ماحول اور عملی سپورٹ فراہم کی جائے تو یہ بچے معاشرے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں جس کئی مثالیں موجود ہیں جہاں خصوصی بچوں نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔حکومت اور نجی اداروں کو چاہیے کہ خصوصی بچوں کے لیے خصوصی تعلیمی پروگرامز، ہنر سکھانے کے مراکز، اور روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ وہ خودمختار زندگی گزار سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ والدین اور معاشرے کے دیگر افراد کو بھی اپنی سوچ میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے تاکہ خصوصی بچوں کو عزت اور برابری کا مقام مل سکے۔ یہ ان بچوں کابنیادی حق ہے اور یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا بیٹا فیروز جوکہ 15 سال کا سپیشل بچہ ہے اس میں جب پہلی بار آٹزم کی تشخیص ہوئی تو میں نے آٹزم کے بارے میں جاناکہ یہ کیا ہے پاکستان اور اس سے باہر کتنے لوگ سپیشل پرسنز ہیں پاکستان میں بھی اب آٹزم کے بارے بیداری میں اضافہ ہورہاہے لیکن اس میں ابھی بہت طویل سفر طے کرنا ہے اور ہمیں ایسے منفرد ہونہار لوگوں کے لیے تعلیمی جگہوں اور کام کے مواقع کو فعال کرنے کے لیے مزید جامع ماحول کی ضرورت ہے۔