بینکوں کے ایس ایم ایس چارجز — سہولت یا خاموش لوٹ مار؟
بینکوں کے ایس ایم ایس چارجز — سہولت یا خاموش لوٹ مار؟
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملک میں مہنگائی کی لہر پہلے ہی عام آدمی کی کمر توڑ چکی ہے، ایسے میں اگر بنیادی مالیاتی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے بھی عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے لگیں تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر شہری جائے تو کہاں جائے۔ حالیہ انکشاف کہ بینک صارفین سے ایس ایم ایس کی مد میں فی پیغام تقریباً 3.40 روپے وصول کر رہے ہیں اور سالانہ بنیادوں پر یہ رقم 18 ارب 70 کروڑ روپے تک پہنچ جاتی ہے، ایک سنجیدہ بحث کو جنم دیتا ہے۔
بظاہر تو یہ ایک معمولی سا چارج لگتا ہے، چند روپے فی میسج۔ لیکن جب یہی معمولی رقم لاکھوں کروڑوں صارفین سے مسلسل وصول کی جائے تو یہ ایک خطیر آمدن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایک ایس ایم ایس کی لاگت اتنی زیادہ ہے یا یہ صرف ایک منافع بخش ذریعہ بنا لیا گیا ہے؟
بینکوں کا مؤقف عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایس ایم ایس الرٹس صارفین کی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہیں۔ جب بھی کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے، اکاؤنٹ ہولڈر کو فوری اطلاع دی جاتی ہے تاکہ کسی بھی غیر مجاز سرگرمی کو بروقت روکا جا سکے۔ بلاشبہ، یہ سہولت اپنی جگہ اہم ہے اور اس نے کئی فراڈ کیسز کو روکنے میں مدد بھی دی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس سہولت کی قیمت اتنی ہونی چاہیے جو صارفین پر ایک اضافی مالی بوجھ بن جائے؟
آج کے دور میں جہاں تقریباً ہر بینک اپنی موبائل ایپ اور انٹرنیٹ بینکنگ سروس فراہم کر رہا ہے، وہاں نوٹیفکیشن کا نظام تقریباً مفت یا نہایت کم لاگت پر دستیاب ہے۔ اس کے باوجود ایس ایم ایس چارجز کا برقرار رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شاید بینک اس سروس کو محض سیکیورٹی کے بجائے ایک ریونیو سورس کے طور پر بھی استعمال کر رہے ہیں۔
مزید برآں، ایک اور اہم پہلو شفافیت کا ہے۔ کتنے صارفین کو یہ معلوم ہے کہ ان سے ہر ایس ایم ایس کے بدلے باقاعدہ رقم وصول کی جا رہی ہے؟ کتنے لوگ اپنے بینک اسٹیٹمنٹ میں ان چارجز کو تفصیل سے دیکھتے ہیں؟ اور سب سے اہم سوال، کیا صارفین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس سروس کو بند کروا سکیں؟
عملی طور پر دیکھا جائے تو بیشتر صارفین کو یا تو اس سہولت کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں دی جاتی یا پھر اسے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ گویا یہ لازمی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ایس ایم ایس سروس بند کر دیں گے تو شاید ان کا اکاؤنٹ غیر محفوظ ہو جائے گا، حالانکہ حقیقت میں متبادل ذرائع موجود ہیں۔
یہاں ریاستی اداروں، خصوصاً ریگولیٹرز کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ مالیاتی نظام میں صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر بینک کسی سروس کے نام پر غیر ضروری یا حد سے زیادہ چارجز وصول کر رہے ہیں تو اس کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔ ایک واضح پالیسی ہونی چاہیے جس میں یہ طے کیا جائے کہ ایسی سروسز کی زیادہ سے زیادہ فیس کیا ہو سکتی ہے اور کن شرائط کے تحت صارفین سے یہ رقم وصول کی جا سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں جہاں بینکوں کو صارفین سے اضافی یا غیر ضروری فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ پاکستان میں بھی اس طرح کی پالیسیوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ عام شہری کو بلاوجہ مالی دباؤ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
دوسری جانب، صارفین کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے بینکنگ معاملات پر نظر رکھنی چاہیے، اسٹیٹمنٹس کو باقاعدگی سے چیک کرنا چاہیے اور ہر اس چارج کے بارے میں سوال اٹھانا چاہیے جو ہمیں غیر ضروری محسوس ہو۔ اگر ہم خود خاموش رہیں گے تو ایسے معاملات کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیے جائیں گے۔
یہ معاملہ صرف چند روپے کے ایس ایم ایس چارجز کا نہیں بلکہ ایک بڑے اصول کا ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ کیا ہمارے مالیاتی ادارے واقعی عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہے ہیں یا پھر ہر ممکن طریقے سے منافع کمانا ہی ان کا اصل مقصد بن چکا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بینک اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، صارفین کو واضح معلومات فراہم کریں اور ایسی سہولیات کو حقیقی معنوں میں سہولت بنائیں، نہ کہ ایک پوشیدہ بوجھ۔ اسی طرح حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے کا فوری جائزہ لیں اور ایسی اصلاحات متعارف کروائیں جو عوام کے مفاد میں ہوں۔
اگر آج ہم نے اس مسئلے کو نظرانداز کر دیا تو کل یہی چھوٹے چھوٹے چارجز ایک بڑے معاشی استحصال کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ شفافیت، انصاف اور صارفین کے حقوق کو اولین ترجیح دی جائے، تاکہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جا سکے جس میں سہولت کے نام پر استحصال کی کوئی گنجائش نہ ہو۔










































Visit Today : 608
Visit Yesterday : 812
This Month : 2944
This Year : 50780
Total Visit : 155768
Hits Today : 3124
Total Hits : 685804
Who's Online : 6






















