ملتان :  ہیلپرز بزنس فورم اور کنزیومر رائٹس فورم کے زیر اہتمام “مہنگائی اور بےروزگاری کے شکار صارف شہریوں کا مستقبل” کے عنوان سے منعقدہ مذاکرہ سے خطاب کرتے ہوئے معروف قانون دان سیدشمشادعلی رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ مرکزی انجمن تاجران ملتان کینٹ کے سیکرٹری جنرل معظم وحید خواجہ, چیف کوآرڈینیٹر غضنفر ملک, تاجر وسماجی راہنماءکلب عابد خان اور ملک قسور عباس گرا ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت آئے روز معاشی بحالی کیلئے اقدامات کرنے کے دعوے اور حکومتی اخراجات کنٹرول کرنے کے احکامات جاری کرتے رہتے ہیں جبکہ نتیجہ بالکل صفر اور شہریوں کے معاشی حالات بدترین ہوتے جارہے ہیں بجلی کے بلوں میں شامل کیے جانے والے فکسڈ چارجز نے کاروباری طبقے سمیت عام شہریوں کے لیے شدید مالی اور معاشی مشکلات پیدا کرینگے حکومت کی جانب سے 35 روپے کی پی ٹی وی فیس کے خاتمے کو ریلیف کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس کے برعکس بجلی کے بلوں میں 600 سے 900 روپے تک کے فکسڈ چارجز شامل کر کے عوام پر ایک نیا مالی بوجھ ڈال کر عام شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے۔ ملک قسور عباس گرا ایڈووکیٹ ، سینئر نائب صدر ساؤتھ پنجاب ہوٹلز اینڈ ریسٹورنٹ ایسوسی ایشن اعجازکریم ، صدر پاکستان بزنس فورم شیخ محمد عرفان اور خواجہ دلشاد احمد نے کہا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب صارف پہلے ہی بجلی کے یونٹس کی قیمت ادا کرتا ہے، میٹر کی تنصیب اور دیگر بنیادی اخراجات بھی عوام ہی برداشت کرتے ہیں، تو پھر ہر ماہ فکسڈ چارجز کی مد میں اضافی رقم کیوں وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح گیس جیسی بنیادی ضرورت اور پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے ذریعہ عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے بڑھتی مہنگائی اور بےروزگاری سے نچلا طبقہ شدید متاثر اور بےروزگاری کے باعث جرائم کی شرح میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہورہا ہے اس صورتحال میں چھوٹے تاجروں، ریڑھی بانوں اور محدود کاروبار کرنے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک مالی اور معاشی حالات ہی جو پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے دباؤ میں ہیں بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی کے باعث کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں اور مہنگائی کی صورت میں اثرات عام عوام تک منتقل ہو رہےہیں حکومت نے انتخابات سے قبل عوام سے سستی اور مفت بجلی کے وعدے کیے تھے، مگر اقتدار میں آنے کے بعد عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مسلسل مہنگائی اور اضافی چارجز کا سامنا ہے، جو عوامی اعتماد کو بری طرح متاثر کیاہے۔ ملک اویس نانڈلہ ایڈووکیٹ ، صدر جیولرز ایسوسی ایشن کینٹ رانا شاہد احمد ، جنرل سیکرٹری رانا مبشر رئیس اور خواجہ دلشاد احمد نے کہا بجلی کے بلوں میں شامل فکسڈ چارجز فوری طور پر ختم کیے جائیں یا انہیں کم آمدنی والے اور کم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے منصفانہ بنایا جائے۔ ساتھ ہی بجلی کے بلوں میں تمام چارجز کی مکمل شفافیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو یہ معلوم ہو سکے کہ ان سے کس مد میں کتنی رقم وصول کی جا رہی ہے۔ اور حکومت فوری طور پر مفت پیٹرول مفت بجلی جیسی مراعات پر مکمل پابندی اور لگژری مراعات ہرسطح پر بند کرے مسائل کے حل کیلئے فوری سنجیدہ اقدامات نہ ہوئے تو وطن عزیز میں معاشی بدامنی اور جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگا
بجلی کا نظام کسی بھی ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، مگر اس نظام میں غیر منصفانہ بوجھ عوامی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے، جسے فوری طور پر درست کرنے کی اشد ضرورت ہے۔