ملتان(بیورورپورٹ) ملتان سٹی کونسل کے زیر اہتمام سالانہ اجلاس اور عید ملن پارٹی ایک مقامی ہوٹل میں نہایت باوقار انداز میں منعقد ہوئی، جس میں شہر کی ممتاز سماجی، صحافتی، ادبی اور انتظامی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں ملتان کو درپیش بنیادی مسائل، خصوصاً سیوریج، بے روزگاری، شہری سہولیات کی کمی اور تاریخی ورثے کے تحفظ جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ سٹی کونسل کے مرکزی صدر ملک ارشد اقبال بھٹہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ ملتان کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ سیوریج کا ہے، جسے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے ملتان کے سیوریج سسٹم کی بہتری کیلئے 26 ارب روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، اور سٹی کونسل اس خطیر رقم کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ “ہم ان 26 ارب روپے کے فنڈز پر کڑا پہرہ دیں گے اور کسی بھی قسم کی کرپشن ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی نے ملتان کے عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو ہم انتظامی سطح پر اعلیٰ حکام کو آگاہ کریں گے اور کرپٹ عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ملک ارشد اقبال بھٹہ نے کمشنر ملتان سے اپیل کی کہ شہر بھر میں یکساں ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ ترقی اور محرومی کے درمیان فرق ختم ہو سکے۔ انہوں نے میڈیا اور ضلعی انتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سیوریج جیسے سنگین مسئلے کے حل کیلئے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ تقریب کی نظامت معروف دانشور، اینکر، ادیب، شاعر اور کالم نگار شاکر حسین شاکر نے نہایت خوبصورتی سے سرانجام دی، جبکہ مختلف مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے شہری مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات پر زور دیا۔ سینئر صحافی سجاد بخاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملتان کی تہذیب، ثقافت اور تاریخی حسن کو برقرار رکھنے کیلئے والڈ سٹی منصوبے کی تکمیل ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کی تاریخی فصیل کی بحالی سے نہ صرف شہر کی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کمشنر ملتان عامر کریم خاں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اس اہم منصوبے پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ سینئر صحافی ڈاکٹر امجد بخاری نے اپنے خطاب میں بے روزگاری کو ملتان کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خاتمے کیلئے ٹھوس معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کم ہونے سے دیگر کئی مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے شہری سہولیات کی کمی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شہر میں پیدل چلنے والوں کیلئے مناسب فٹ پاتھ بھی موجود نہیں، جو ایک المیہ ہے۔ انہوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ افسران کو رنگین شیشوں والی گاڑیوں میں بیٹھنے کے بجائے شہر میں پیدل چل کر عوام کے مسائل کا خود مشاہدہ کرنا چاہیے تاکہ انہیں زمینی حقائق کا اندازہ ہو اور وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔ معروف دانشور میر احمد کامران مگسی نے اپنے خطاب میں ملتان کی ہزاروں سال قدیم تہذیب کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ شہر کے اصل تشخص کو اجاگر کرنے کیلئے ایک علیحدہ آثارِ قدیمہ اتھارٹی قائم کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندو، بدھ مت اور دیگر قدیم تہذیبوں سے تعلق رکھنے والے آثار کی حفاظت مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملتان کے تاریخی دروازوں کے اردگرد تجاوزات کا خاتمہ اور ان کی توسیع وقت کی اہم ضرورت ہے، جس سے نہ صرف شہر کا تاریخی حسن بحال ہوگا بلکہ ٹریفک کے مسائل میں بھی کمی آئے گی۔ تقریب میں سینئر صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی، جن میں شوکت اشفاق، ملک شکیل الرحمن حر، صفدر بخاری، بابر چوہدری، ذوہیب بخاری، پروفیسر علی سخن ور، ڈائریکٹر آرٹس کونسل سلیم قیصر، ظفر وٹو، ڈائریکٹر ڈی جی پی آر سجاد جہانیہ، رانا خالد حسن، ایس پی سیف اللہ گجر، ڈی ایس پی طارق محمود، عامر شہزاد صدیقی، خواجہ ضیاء صدیقی، شہگی پیرزادہ، ریاض حسین بخاری، اشفاق جوئیہ، ندیم رضا نمبردار، ہارٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر ظہور احمد چوہدری، ڈاکٹر محمد صدیق، ذوہیر حسن نقوی، حاجی بلال احمد، شاہد قریشی، سرفراز اعوان، سفیان مرزا، محمد احمد غزنوی، عبداللہ ریاض، طہ مگسی اور ملک امجد سعید تھہیم شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے سٹی کونسل کے مرکزی صدر ملک ارشد اقبال بھٹہ کو ایک کامیاب اور بامقصد تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ سٹی کونسل مستقبل میں بھی شہری مسائل کے حل کیلئے اسی طرح موثر کردار ادا کرتی رہے گی۔