پی ٹی وی فیس گئی، فکسڈ چارجز آگئے,,,, عوام کو ریلیف نہیں، نیا بوجھ مل گیا
“پی ٹی وی فیس گئی، فکسڈ چارجز آگئے — عوام کو ریلیف نہیں، نیا بوجھ مل گیا”
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
بجلی کے بل ہمیشہ سے عوام کے لیے ایک حساس اور اہم معاملہ رہے ہیں۔ ہر ماہ جب بل ہاتھ میں آتا ہے تو صارفین کی پہلی نظر یونٹس پر نہیں بلکہ کل رقم پر جاتی ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب گھریلو بجٹ کا توازن بگڑتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بجلی کے بلوں میں شامل 35 روپے کی پی ٹی وی فیس کے خاتمے کو ایک بڑی کامیابی اور عوامی ریلیف کے طور پر پیش کیا گیا، مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف دکھائی دیتی ہے۔
اب بجلی کے بلوں میں گھریلو اور کمرشل صارفین پر 600 سے 900 روپے تک کے فکسڈ چارجز عائد کیے جا رہے ہیں۔ یہ چارجز نہ تو آپ کے استعمال سے مشروط ہیں اور نہ ہی آپ کی استطاعت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ چاہے آپ بجلی کم استعمال کریں یا زیادہ، یہ رقم ہر حال میں ادا کرنا لازمی ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے اس نام نہاد ریلیف کو ایک نئے بوجھ میں تبدیل کر دیا ہے۔
عوام کا ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ جب میٹر ہماری ملکیت ہے، دیوار ہماری ہے، ساری تنصیب ہمارے خرچ پر ہوتی ہے، تو پھر یہ مستقل فکسڈ چارجز کس بات کے لیے لیے جا رہے ہیں؟ صارف پہلے ہی بجلی کے یونٹس کی قیمت ادا کرتا ہے، میٹر کی تنصیب کے اخراجات بھی برداشت کرتا ہے، اور اکثر مرمت و دیکھ بھال میں بھی اپنا کردار ادا کرتا ہے، اس کے باوجود ہر ماہ ایک اضافی فکسڈ رقم کی وصولی عوام کے لیے سمجھ سے بالاتر ہے۔
پہلے بجلی کے بل کا ایک بنیادی اصول تھا: جتنا استعمال، اتنا بل۔ اس اصول میں ایک حد تک انصاف موجود تھا، کیونکہ کم استعمال کرنے والا کم ادائیگی کرتا تھا اور زیادہ استعمال کرنے والا زیادہ۔ مگر اب فکسڈ چارجز کے نفاذ نے اس اصول کو کمزور کر دیا ہے۔ ایک غریب گھرانہ جو بمشکل چند یونٹس استعمال کرتا ہے، اسے بھی وہی اضافی رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے جو ایک بڑے گھر یا کاروباری صارف پر لاگو ہوتی ہے۔ یوں یہ نظام بظاہر سہولت کے نام پر عدم مساوات کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ معاملہ صرف تکنیکی یا مالی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ عوام کو یہ بھی یاد ہے کہ انتخابات سے پہلے مختلف سیاسی قیادتوں کی جانب سے مفت یا سستی بجلی کے وعدے کیے گئے تھے۔ عوام کو یہ امید دلائی گئی تھی کہ اقتدار میں آ کر انہیں ریلیف دیا جائے گا، ان کے مسائل کم کیے جائیں گے، اور بنیادی سہولیات سستی کی جائیں گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ حکومت میں آتے ہی وہی عوام مہنگائی کے نئے طوفان کا سامنا کر رہے ہیں، اور بجلی کے بل اس کی ایک واضح مثال بن چکے ہیں۔
کمرشل صارفین کی صورتحال بھی کم تشویشناک نہیں۔ چھوٹے دکاندار، جن کا کاروبار پہلے ہی مہنگائی، ٹیکسوں اور دیگر اخراجات کے دباؤ میں ہے، اب انہیں بھی ہر ماہ ایک مستقل اضافی بوجھ کا سامنا ہے۔ یہ بوجھ صرف دکاندار تک محدود نہیں رہتا بلکہ بالآخر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں عام صارف تک منتقل ہو جاتا ہے۔ یوں ایک چھوٹا سا فیصلہ پورے معاشی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے۔
یہاں سوال صرف رقم کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے۔ جب حکومت ایک طرف کسی چارج کو ختم کر کے ریلیف کا اعلان کرتی ہے اور دوسری طرف اس سے کئی گنا زیادہ رقم کسی اور مد میں وصول کرنا شروع کر دیتی ہے، تو عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ مکمل سچائی شیئر نہیں کی جا رہی بلکہ محض اعلانات کے ذریعے ایک مثبت تاثر قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومتی مؤقف یہ ہو سکتا ہے کہ فکسڈ چارجز بجلی کے نظام کو چلانے، انفراسٹرکچر کو برقرار رکھنے اور دیگر انتظامی اخراجات پورے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن یہاں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان اخراجات کا بوجھ یکساں طور پر سب پر ڈالنا منصفانہ ہے؟ کیا کم آمدنی والے اور کم استعمال کرنے والے صارفین کو بھی اسی پیمانے پر پرکھنا درست ہے؟
شفافیت کی کمی بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ بیشتر صارفین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بل میں شامل فکسڈ چارجز کن مدات کے تحت لیے جا رہے ہیں۔ اگر ان چارجز کی واضح وضاحت کی جائے، ان کی بنیاد اور استعمال کو عوام کے سامنے رکھا جائے، تو شاید اس پر ردعمل بھی مختلف ہو۔ مگر جب معلومات محدود ہوں تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں اصلاحات اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن یہ اصلاحات اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک وہ عوامی حالات، آمدنی اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر نہ کی جائیں۔ یکساں بوجھ ڈالنے کے بجائے ایک ایسا نظام ترتیب دینا ہوگا جو کمزور طبقے کو سہارا دے، نہ کہ اسے مزید دباؤ میں لے آئے۔
اگر واقعی حکومت عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے صرف بیانات اور اعلانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے جو عوام کے مالی بوجھ کو کم کریں، وعدوں کو حقیقت میں بدلیں اور اعتماد کو بحال کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پی ٹی وی فیس کا خاتمہ اگرچہ ایک علامتی قدم تھا، لیکن جب اس کی جگہ فکسڈ چارجز کی صورت میں کہیں زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہو تو یہ ریلیف نہیں بلکہ بوجھ کی نئی شکل ہے۔
عوام آج بھی یہی سوال کر رہے ہیں: جب سب کچھ ہمارا ہے، تو یہ اضافی بوجھ کس بات کا ہے؟ اور کیا یہی وہ ریلیف تھا جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟









































Visit Today : 612
Visit Yesterday : 812
This Month : 2948
This Year : 50784
Total Visit : 155772
Hits Today : 3165
Total Hits : 685845
Who's Online : 7






















