عناوان: ملتان کی تاریخی کرکٹ اور نئی امیدیں

*تحریر:راشدوٹو*

29 مارچ 2004 کرکٹ کی تاریخ کا ایک سنہری دن تھا، جب ملتان کی سرزمین پر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے کھیل کی دنیا میں ایک نئی مثال قائم کی۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں بھارت کے جارح مزاج بلے باز وریندر سہواگ نے پاکستان کے خلاف 309 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ سہواگ کی یہ اننگز صرف ایک ٹرپل سنچری نہیں تھی بلکہ مہارت، اعتماد اور بے خوفی کا حسین امتزاج تھی۔انہوں نے 375 گیندوں کا سامنا کیا، 39 چوکے اور 6 چھکے لگائے، اور وکٹ پر طویل عرصہ ڈٹے رہے۔ پاکستانی باؤلرز، جن میں ثقلین مشتاق جیسے تجربہ کار کھلاڑی بھی شامل تھے، ان کے سامنے بے بس دکھائی دیے۔ یہ لمحہ خاص طور پر یادگار اس وقت بن گیا جب سہواگ نے ثقلین مشتاق کی گیند پر چھکا لگا کر اپنی ٹرپل سنچری مکمل کی۔ یہ شاٹ نہ صرف ان کی اننگز کے عروج کی نمائندگی کرتا تھا بلکہ ان کے جارحانہ انداز کا بھی بھرپور مظاہرہ تھا۔سہواگ کی اس شاندار کارکردگی نے روایتی ٹیسٹ کرکٹ کے انداز کو چیلنج کیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ مثبت اور جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ بھی طویل اور بڑی اننگز کھیلنا ممکن ہے۔ آج بھی یہ اننگز نوجوان کرکٹرز کے لیے ایک مثال کے طور پر دیکھی جاتی ہے۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا اور تاریخی میدان ہے۔ یہاں ماضی میں کئی یادگار مقابلے کھیلے گئے، اور شائقین کرکٹ سے محبت کی مثال دیتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں اس اسٹیڈیم کو وہ توجہ نہیں ملی جس کا یہ حق دار تھا۔ پاکستان سپر لیگ کے میچز زیادہ تر بڑے شہروں میں منعقد ہوئے، جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب کے شائقین کھیل کے اصل جوش و خروش سے محروم رہ گئےپاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کی بحالی کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں اور بین الاقوامی ٹیموں کی پاکستان آمد ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیکن ضروری ہے کہ ملک کے دیگر اہم کرکٹ مراکز کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے۔ ملتان کے عوام آج بھی اس امید کے ساتھ بیٹھے ہیں کہ ایک دن دوبارہ ان کے شہر میں بڑے مقابلے ہوں گے اور اسٹیڈیم شائقین سے بھر جائے گا۔ یہ نہ صرف کرکٹ کے فروغ کے لیے ضروری ہے بلکہ نوجوان ٹیلنٹ کو بڑے ایونٹس کا حصہ بنانے کے لیے بھی اہم قدم ہوگا۔پاکستان کرکٹ بورڈ سے گزارش ہے کہ وہ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کو دوبارہ فعال بنانے پر غور کرے۔ اگر پاکستان سپر لیگ کے میچز کو یہاں بھی منعقد کیا جائے تو شائقین کے لیے خوشی کا باعث ہوگا اور کرکٹ کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ملتان کی سرزمین آج بھی سہواگ کی تاریخی اننگز کی گواہ ہے، مگر وقت آ گیا ہے کہ یہاں نئی تاریخ رقم کی جائے۔ خاص طور پر جنوبی پنجاب کی اپنی ٹیم، ملتان سلطان، کے لیے یہ موقع اہم ہے کہ وہ اپنے گھر میں شائقین کے سامنے کھیل سکیں اور اسٹیڈیم میں رونقیں واپس آئیں۔ملتان کرکٹ اسٹیڈیم کی واپسی نہ صرف شائقین کے جوش کو بڑھائے گی بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی موقع دے گی کہ وہ بڑے مقابلوں کا حصہ بنیں۔ امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ جلد اس تاریخی اسٹیڈیم کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اقدامات کرے گا، تاکہ ملتان کرکٹ کی دنیا میں دوبارہ اپنی جگہ بنا سکے۔