ملتان: فارمرز ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن (FDO) اور ٹی ڈی ای اے کے زیرِ اہتمام پنجاب ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کے حوالے سے آگاہی مہم کے سلسلے میں ضلعی فورم کا انعقاد ایک مقامی ہوٹل میں کیا گیا،ضلعی فورم میں آگاہی مہم میں شامل مختلف تنظیموں کے نمائندوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں کے پروفیسرز، طلبہ و طالبات اور حکومتی اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز نے شرکت کی،پروگرام کے آغاز میں ایف ڈی او کے منیجر علی اعجاز نے بتایا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے حوالے سے آگاہی مہم کا آغاز ضلع ملتان میں جنوری 2026 میں کیا گیا۔ اس مہم کے تحت پنجاب انفارمیشن کمیشن لاہور کے تعاون سے پبلک انفارمیشن آفیسرز (PIOs) کے لیے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جبکہ مقامی صحافیوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اس کے علاوہ تین یونیورسٹیوں اور دو کالجوں میں پینل ڈسکشن اور ویبینارز کا بھی انعقاد کیا گیا،انہوں نے بتایا کہ ان پروگرامز کے نتیجے میں مجموعی طور پر 733 افراد تک آر ٹی آئی ایکٹ کے حوالے سے براہِ راست آگاہی اور معلومات پہنچائی گئیں،آگاہی مہم کا مقصد شہریوں کو درست اور مستند معلومات تک رسائی فراہم کرنا اور غلط یا غیر مصدقہ معلومات کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا ہے، تاکہ عوام حکومتی اداروں کے پروگرامز میں مؤثر اور بامعنی شرکت کر سکیں،آگاہی مہم کی سفارشات کے حوالے سے سلطان محمود نے تفصیلی پریزنٹیشن پیش کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ویمن یونیورسٹی ملتان کی رجسٹرار ڈاکٹر دیپا نے بتایا کہ آگاہی پروگرامز کے نتیجے میں یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر طالبات کے لیے ضروری تمام معلومات شامل کر دی گئی ہیں، جس سے طالبات کو معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو گئی ہے،ایمرسن یونیورسٹی سے ڈاکٹر محمد فاروق اور پوسٹ گریجویٹ کالج سے ڈاکٹر زاہد نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیمی اداروں میں ایسے آگاہی پروگرامز کا انعقاد ایک مثبت قدم ہے، جس سے طلبہ و طالبات میں شعور بڑھا ہے اور وہ آر ٹی آئی ایکٹ کو معلومات کے حصول کا مؤثر ذریعہ سمجھنے لگے ہیں، پروگرام کے اختتام پر حکومتی اداروں کے نمائندوں نے بھی اظہار خیال کیا۔سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے محمد شفیق اقبال، واسا ملتان کے حسن رضا بخاری، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے محمد عمران اور محکمہ تعلیم کے محمد قیوم نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری محکموں کی ویب سائٹس کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے، اداروں میں پبلک انفارمیشن آفیسرز کی تعیناتی اور تربیت کو یقینی بنایا جائے، جبکہ خواتین، خصوصی افراد اور کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے آر ٹی آئی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کیے جائیں۔پروگرام کے اختتام پر پی ایس سی این کے کنوینر شہباز حسین نے طلبہ اور پارٹنر تنظیموں(امن،دیس ،ایس پی ڈی او،ایچ ڈبلیو آر اے پی ) کے نمائندوں میں سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کیے۔