پاکستانی ادارے بدانتظامی کا شکار ،،، ریاست نے قوم کو لاقانونیت میں دھکیل دیا
پاکستانی ادارے بدانتظامی کا شکار — ریاست نے قوم کو لاقانونیت میں دھکیل دیا
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کی بنیاد قانون، انصاف اور عوامی فلاح کے اصولوں پر رکھی گئی تھی، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج یہی ریاست اپنے اداروں کی بدانتظامی کے باعث شدید بحران کا شکار نظر آتی ہے۔ وہ ادارے جو عوام کو تحفظ، انصاف اور سہولیات فراہم کرنے کے ذمہ دار تھے، خود کمزوری، نااہلی اور کرپشن کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ نتیجتاً عام شہری خود کو غیر محفوظ، بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے۔
آج ملک میں قانون کی عملداری ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ اگر ایک عام آدمی اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے کسی سرکاری دفتر کا رخ کرتا ہے تو اسے انصاف نہیں بلکہ تاخیر، سفارش اور رشوت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ جائز کام کروانے کے لیے بھی لوگوں کو غیر قانونی راستے اختیار کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ ریاستی نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
بدانتظامی کی یہ صورتحال صرف ایک یا دو اداروں تک محدود نہیں بلکہ تقریباً ہر شعبہ اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ پولیس، بلدیاتی ادارے، ترقیاتی محکمے اور دیگر سرکاری دفاتر عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے مراکز بن چکے ہیں۔ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خود قانون کی پاسداری نہ کریں تو معاشرے میں لاقانونیت کا فروغ ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ احتساب کا نظام بھی کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اگر کسی اہلکار یا افسر کے خلاف شکایت کی جائے تو کارروائی کے بجائے معاملے کو دبا دیا جاتا ہے یا شکایت کنندہ کو ہی پریشان کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد ختم ہونا فطری امر ہے، اور یہی عدم اعتماد معاشرتی انتشار کو جنم دیتا ہے۔
ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کو تحفظ اور انصاف فراہم کرنا ہے، مگر جب یہی ذمہ داری پوری نہ ہو تو لوگ خود فیصلے کرنے لگتے ہیں، جس سے معاشرے میں افراتفری اور بے یقینی بڑھتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک منظم ریاست آہستہ آہستہ لاقانونیت کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ صرف بیانات اور دعووں سے کام نہیں چلے گا بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ شفاف احتساب، سخت نگرانی، اور اداروں کی اصلاح کے بغیر یہ نظام مزید بگڑتا جائے گا۔ عوام کو بھی اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنی ہوگی تاکہ ایک مضبوط، منصف اور قانون کی حکمرانی والا پاکستان تشکیل دیا جا سکے۔
اگر آج ہم نے اس بدانتظامی کے خلاف سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو کل یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا، اور اس کا نقصان پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔









































Visit Today : 639
Visit Yesterday : 812
This Month : 2975
This Year : 50811
Total Visit : 155799
Hits Today : 3378
Total Hits : 686058
Who's Online : 6






















