ملتان: 8 فروری 2024 کےعام انتخابات میں الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی ویب سائٹ پر شائع کردہ انتخابی نتائج کا (پتن) نے آڈٹ کیا جس میں انتہائی تشویش ناک رجحانات سامنے آئے ہیں۔ • الیکشن کمیشن ستمبر 2024 تک اپنی ویب سائٹ پر انتخابی نتائج کے فارم تبدیل کرتا رہا۔ اس کے علاوہ الیکشن کمیشن الیکشن ایکٹ 2017 اور الیکشن رولز 2017 میں دی گئی زیادہ تر لازمی ڈیڈ لائنز کو پورا کرنے میں بھی ناکام رہا، خاص طور پر وہ جو انتخابی نتائج کے اعلان کے اوقات اور تاریخوں کے بارے میں واضح طور پر ہدایات دیتے ہیں۔ • ماضی کے برعکس الیکشن کمیشن نے انتخابات کے ایک سال بعد تک بھی انتخابات میں حصہ لینے والے مرد اور خواتین ووٹرز ٹرن آوٹ کا اعلان نہیں کیا۔ یا تو یہ الیکشن کمیشن کی نااہلی کا نتیجہ ہے یا اس نے انتخابی دھاندلی چھپانے کی کوشش کی، یا دونوں۔ لاہور کے متعدد قومی حلقوں کے سیکڑوں پولنگ اسٹیشنز پر رائے دہندگان کا ٹرن آؤٹ 80 فیصد سے زیادہ تھا، کچھ میں یہ 100 فیصد سے بھی زیادہ تھا جو ناممکن ہے، لیکن ان کے متعلقہ صوبائی حلقوں کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ اوسطا 40 فیصد تھا۔ یہ رجحان پنجاب اور کراچی میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ • پتن کے تخمینے کے مطابق، عام انتخابات-2024 میں اصل ٹرن آؤٹ مختلف تنظیموں کے اندازوں سے کہیں کم ہونے کا امکان ہے کیونکہ قومی اور صوبائی حلقوں کے ہزاروں مشترکہ پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آؤٹ کا فرق 40 فیصد سے زیادہ پایا گیا تھا۔ اگر قومی اسمبلی کی نشستوں پر غیر معمولی طور پر زیادہ اور غیر حقیقی ٹرن آؤٹ کو معمول اور مروجہ ٹرن آؤٹ یا صوبائی اسمبلی کے ٹرن آؤٹ یا اس کے برعکس ایڈجسٹ کیا جاتا ہے، تو اس سے مجموعی طور پر قومی اور صوبائی ٹرن آؤٹ کے ساتھ ساتھ انتخاب لڑنے والی جماعتوں کا حصہ بھی کم ہوجائے گا اور بہت سے جیتنے والے امیدوار ہارنے والوں میں تبدیل ہوجائیں گے۔ • سپریم کورٹ آف پاکستان کے فل بنچ کے احکامات کے باوجود پارلیمنٹ اور دو صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور غیر مسلموں کے لیے پانچ درجن سے زائد مخصوص نشستیں ابھی تک خالی ہیں۔ اس نے وفاقی اکائیوں کے درمیان آئینی مساوات کو مسخ کر دیا ہے۔ لہٰذا نامکمل مقننہ کی جانب سے منظور کی جانے والی ہر قانون سازی میں قانونی حیثیت اور عوام کے اعتماد کا فقدان ہوتا ہے۔ • ٹرن آؤٹ میں صنفی ووٹ کا فرق نمایاں طور پرزیادہ ہے اور ووٹر لسٹ میں مرد اور خواتین کے فرق سے زیادہ ہے۔ یہ فرق لاہور ڈویژن کی قومی اسمبلی کی تقریبا تمام نشستوں پر زیادہ واضح ہے۔ • قومی اسمبلی کے 70 حلقوں کے 421 پولنگ اسٹیشنز پر صفر یا 50 سے کم ووٹ پڑے۔ اس کے باوجود ای سی پی نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے اور ایسے پولنگ اسٹیشنوں پر دوبارہ پولنگ کا فیصلہ کرنے کے لئے اپنے قانونی اختیار کا استعمال نہیں کیا۔ • الیکشن کمیشن، نگران انتظامیہ اور موجودہ مخلوط حکومت نے موجودہ حکمران اتحاد کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے انتخابات میں ہیرا پھیری، جبر اور دھاندلی کے 64 نئے ذرائع کا استعمال کیا۔ • ووٹوں میں دھاندلی اور ہارنے والے کی جیت (موجودہ حکمران اتحاد) کے درمیان کئی معاملات میں براہ راست تعلق نظر آتا ہے۔ انتخابات سے پہلے اور پولنگ کے دن کے ذرائع اور ووٹوں میں دھاندلی کا مقصد “مثبت” نتائج حاصل کرنا تھا، اور انتخابات کے بعد ہونے والی دھاندلی کا مطلب یہ ہے کہ “ارباب اختیار اور مملکت کے سارے وسائل” چوری شدہ عوام کے مینڈیٹ کو بچانے میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر پی ای سی اے کا نفاذ اور 26 ویں آئینی ترمیم وغیرہ۔ لہٰذا عام انتخابات 2024ء کے پورے انتخابی دورانیہ کا خلاصہ چار الفاظ میں کیا جا سکتا ہے: تاخیر > انکار > حراست > تباہی، جیسا کہ ہماری رپورٹ کے سرورق پہ دکھایا گیا ہے۔
سفارشات
• ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ عام انتخابات 2024 میں دھاندلی، دھوکہ دہی اور ہیرا پھیری کی تحقیقات اور ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لئے انکوائری کمیشن قائم کیا جائے۔ • الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا جنہوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس پر عام انتخابات 2024 میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کیا تھا۔ ہم ای سی پی پر زور دیتے ہیں کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے۔ • ہم انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں، قومی کمیشن برائے خواتین، یو این ویمن اور یو این ڈی پی سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ الیکشن کمیشن اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ فی الفورخواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستیں جو ابھی تک خالی ہیں مکمل کی جائیں۔ • ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ذریعے سینیٹ انتخابات مکمل کرے۔ آئین کے تحت وفاقی اکائیوں کے درمیان مساوات قائم کرنا ضروری ہے۔ • انتخابی نتائج میں دھاندلی کی نوعیت اور شدت کے پیش نظرہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخابی عمل، ووٹوں کی گنتی اورنتائج مرتب کرنے اور انتخابی نتائج کو پہنچانے کے لئے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو اپنانے میں غیرآئینی انسانی مداخلت کو روکا جائے۔ • سول سوسائٹی اور سیاسی حلقے سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موجودہ فرسٹ پاسٹ پوسٹ سسٹم سے متناسب نمائندگی کے طریقہ کار کی طرف منتقل ہونے کے لئے عوامی بحث کا آغاز کریں کیونکہ موجودہ نظام قانون سازوں میں رائے دہندگان کی مرضی کو متناسب طور پر پوزیشن میں تبدیل نہیں کرتا ہے ، نیز مروجہ نظام بنیادی طور پر خاندانی سیاست کو مضبوط بنانے کا ذمہ دار ہے ، جبکہ پی آر سسٹم زیادہ نمائندگی کا ضامن اور جمہوری ہے