ایل پی جی کی قیمتوں کا طوفان ,,, سرکاری دعوے، منافع خور مافیا اور پستا ہوا عوام

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں مہنگائی کی لہر تھمنے کا نام نہیں لے رہی، اور اس لہر میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ وہ ہے جو پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔ ایسے میں ایل پی جی (LPG) گیس کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔ 7 اپریل 2026 کو سامنے آنے والی صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ حکومتی نظام پر کئی سوالیہ نشان بھی چھوڑ رہی ہے۔
سرکاری طور پر ایل پی جی کی قیمت 304 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں یہی گیس 500 سے 590 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے۔ یہ فرق صرف قیمت کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے—عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کا۔
یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ جب کسی چیز کی سرکاری اور مارکیٹ قیمت میں اتنا واضح فرق ہو تو اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی خرابی ضرور ہوتی ہے۔ یا تو سپلائی چین میں مسائل ہیں، یا پھر جان بوجھ کر مصنوعی قلت پیدا کی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ دونوں عوامل اکثر ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔
ایل پی جی سیکٹر میں ایک مخصوص مافیا کے کردار سے انکار ممکن نہیں۔ یہ مافیا ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مارکیٹ میں قلت پیدا کرتا ہے، اور پھر من مانے نرخوں پر گیس فروخت کرتا ہے۔ جب تک حکومتی ادارے ان عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کریں گے، یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
دیہی علاقوں میں صورتحال اور بھی سنگین ہے۔ جہاں پہلے ہی قدرتی گیس کی سہولت میسر نہیں، وہاں ایل پی جی ہی واحد ذریعہ ہے۔ لیکن جب یہی گیس عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے تو لوگوں کے پاس متبادل کیا بچتا ہے؟ لکڑی جلانا؟ کوئلہ استعمال کرنا؟ یہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ ماحولیاتی اور صحت کے مسائل بھی پیدا کرتا ہے۔
شہری علاقوں میں بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ چھوٹے ہوٹل، ریڑھی بان، اور گھریلو صارفین سب اس اضافے سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک چھوٹے ہوٹل کا مالک بتاتا ہے کہ اس کے اخراجات میں گزشتہ چند ہفتوں میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کا بوجھ وہ یا تو خود برداشت کرے یا پھر صارفین پر منتقل کرے۔ دونوں صورتیں نقصان دہ ہیں۔
یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر حکومت قیمت مقرر کرتی ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں کرواتی؟ کیا متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں؟ یا پھر یہ سب کچھ محض رسمی کارروائیاں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جب تک نگرانی کا نظام مضبوط نہیں ہوگا، ایسے مسائل بار بار جنم لیتے رہیں گے۔
حکومت کو چاہیے کہ ایل پی جی کی سپلائی اور قیمتوں کی نگرانی کے لیے ایک جامع اور شفاف نظام متعارف کروائے۔ مارکیٹ میں اچانک چھاپے، قیمتوں کی مسلسل مانیٹرنگ، اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے ہیلپ لائنز کو فعال کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت سزائیں بھی دی جائیں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بن سکے۔
دوسری جانب، عوام کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ اگر کہیں اوورچارجنگ ہو رہی ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا، شکایتی مراکز اور متعلقہ اداروں کے ذریعے ایسے واقعات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، خاموشی ہمیشہ ظالم کا ساتھ دیتی ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت طویل المدتی پالیسیوں پر غور کرے۔ ایل پی جی پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دیا جائے، جیسے سولر انرجی، بائیو گیس وغیرہ۔ اس سے نہ صرف عوام کو ریلیف ملے گا بلکہ ملک بھی توانائی کے بحران سے نکلنے کی جانب قدم بڑھائے گا۔
مزید برآں، ایل پی جی کی درآمد اور مقامی پیداوار کے درمیان توازن پیدا کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر مقامی سطح پر پیداوار بڑھائی جائے تو قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے نجی شعبے کو بھی شامل کرنا ہوگا تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور سپلائی بہتر ہو۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایل پی جی کی قیمتوں کا مسئلہ صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ یہ گورننس، شفافیت اور انصاف کا امتحان ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو اسے محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
عوام اب صرف وعدے نہیں بلکہ نتائج چاہتے ہیں۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو کل یہ بحران مزید گہرا ہو جائے گا، اور اس کا بوجھ پھر اسی عام آدمی پر پڑے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔