ملتان : کونسلر اتحاد کے سرپرست اعلیٰ حاجی محمد یوسف انصاری نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا بلدیاتی ایکٹ 2025 ابھی بھی متعدد خامیوں کا حامل ہے، جس میں فوری اور موثر ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ناظم اور چیئرمین کا انتخاب براہِ راست عوام کے ووٹوں سے ہونا چاہیے جبکہ مخصوص نشستوں پر بھی براہِ راست انتخاب کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر کنوینر کونسلر اتحاد ڈاکٹر اکرم شاد، وائس چیئرمین غلام علی جمالی، مرکزی سیکرٹری جنرل پنجاب احسان علی قریشی، نائب صدر ضلع ملتان ظفر علی قریشی، نائب صدر سٹی نصیب گجر، صدر ملتان سٹی حافظ نذر حسین روانی اور صدر خواتین ونگ نبیلہ بٹ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے،حاجی محمد یوسف انصاری نے کہا کہ اگر بلدیاتی ایکٹ میں ضروری اصلاحات نہ کی گئیں تو یونین کونسل کی سطح پر بھی اثر و رسوخ اور دولت کی بنیاد پر فیصلے ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں صاحب ثروت سیاستدان اپنی مرضی کے افراد کو عوام پر مسلط کر دیں گے،انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے بلدیاتی قانون میں شفاف اور جمہوری ترامیم ناگزیر ہیں،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلدیاتی انتخابات میں مزید تاخیر کسی صورت قابل قبول نہیں اور حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے، ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی نمائندے جمہوریت کی نرسری ہوتے ہیں جو نچلی سطح پر عوامی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ کر ان کا حل پیش کرتے ہیں،بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے وعدے تو کرتی ہیں مگر بعد ازاں ان سے راہ فرار اختیار کر لیتی ہیں،حتیٰ کہ اگر عدالتوں کے حکم پر انتخابات ہو بھی جائیں تو بعد میں آنے والی حکومتیں اس نظام کو کمزور یا ختم کر دیتی ہیں،انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی نمائندے دراصل حکومت کی عملی قوت ہوتے ہیں اور ملک کی سیاست میں کئی اہم رہنما اسی بلدیاتی نظام سے ابھر کر قومی سطح تک پہنچے ہیں، یہی لوگ عوام کے مسائل اور مشکلات کو قریب سے سمجھتے ہیں اور ان کے حل کے لیے موثر کردار ادا کرتے ہیں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر ملک و قوم کی ترقی اور استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی، اس موقع پر حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ مہنگائی کے خاتمے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں، مقررین کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام پر کسی ایٹم بم سے کم نہیں، جس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔