ارتھ ڈے یا عوامی تضاد؟ — روشنی بچانے کی پالیسی اور اندھیروں کی حقیقت
ارتھ ڈے یا عوامی تضاد؟ — روشنی بچانے کی پالیسی اور اندھیروں کی حقیقت
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
وفاقی حکومت کی جانب سے 28 مارچ کو ارتھ ڈے کے موقع پر رات ساڑھے 8 بجے سے ساڑھے 9 بجے تک غیر ضروری لائٹس بند رکھنے کی ہدایت بظاہر ایک مثبت اور ماحول دوست قدم ہے۔ دنیا بھر میں اس دن کو توانائی کے تحفظ اور ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، تاکہ عوام اور ادارے مل کر زمین کو درپیش خطرات کے بارے میں سنجیدگی اختیار کریں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ہاں ایسے اقدامات واقعی شعور بیدار کرتے ہیں یا پھر یہ محض نمائشی فیصلے بن کر رہ جاتے ہیں؟
گزشتہ روز ملتان شہر میں اس فیصلے کا عملی مظاہرہ دیکھنے کو ملا، مگر اس میں واضح تضاد نظر آیا۔ رات آٹھ بجے ہی کچہری چوک، ڈی سی آفس اور فلائی اوور کی لائٹس بند کر دی گئیں، جبکہ شہر کے دیگر علاقے، بازار اور تجارتی مراکز حسب معمول روشنیوں سے جگمگاتے رہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف اس پالیسی کی سنجیدگی پر سوال اٹھایا بلکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کار کو بھی مشکوک بنا دیا۔
اگر واقعی مقصد توانائی کا تحفظ اور عوام میں شعور اجاگر کرنا تھا تو پھر یہ عمل یکساں کیوں نہ تھا؟ چند سرکاری مقامات کی لائٹس بند کر دینے سے نہ تو توانائی میں کوئی نمایاں بچت ہو سکتی ہے اور نہ ہی عوام میں کوئی مؤثر پیغام جاتا ہے۔ اس کے برعکس جب شہری دیکھتے ہیں کہ ایک طرف سڑکیں اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں اور دوسری طرف بازار پوری طرح روشن ہیں، تو یہ عمل سنجیدگی کے بجائے ایک مذاق محسوس ہوتا ہے۔
سب سے اہم پہلو تاجروں اور کاروباری طبقے سے رابطے کا فقدان ہے۔ اگر انتظامیہ واقعی اس اقدام کو کامیاب بنانا چاہتی تو کم از کم تاجروں کو اعتماد میں لیا جاتا، انہیں اس دن کی اہمیت سے آگاہ کیا جاتا اور ایک متفقہ حکمت عملی ترتیب دی جاتی۔ مگر بدقسمتی سے ایسا کچھ بھی نظر نہیں آیا۔ نہ کوئی باقاعدہ آگاہی مہم، نہ مشاورت، اور نہ ہی کسی سطح پر مربوط رابطہ۔
یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہمارے ہاں پالیسی سازی اور اس پر عملدرآمد کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔ فیصلے تو کر لیے جاتے ہیں، مگر ان کے اثرات، زمینی حقائق اور عوامی ردعمل کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اچھے اقدامات بھی اپنی افادیت کھو بیٹھتے ہیں۔
مزید برآں، سڑکوں اور اہم شاہراہوں پر لائٹس بند کرنے سے شہریوں کی حفاظت کا مسئلہ بھی جنم لیتا ہے۔ اندھیری سڑکیں نہ صرف ٹریفک حادثات کا خطرہ بڑھاتی ہیں بلکہ جرائم کے امکانات میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر بغیر کسی متبادل انتظام کے روشنی بند کر دی جائے تو یہ اقدام عوامی مشکلات میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے، جو کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں پہلے ہی توانائی کا بحران ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ، بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اور ناقص انفراسٹرکچر نے عوام کو پہلے ہی پریشان کر رکھا ہے۔ ایسے میں جب حکومت ایک گھنٹے کے لیے لائٹس بند کرنے کا اعلان کرتی ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ واقعی ماحولیاتی اقدام ہے یا پھر محض ایک علامتی سرگرمی؟
اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے اقدامات کو محض ایک دن تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے ایک مستقل پالیسی کا حصہ بنایا جائے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، سولر سسٹم کا فروغ، ایل ای ڈی لائٹس کا استعمال، اور غیر ضروری بجلی کے استعمال کی حوصلہ شکنی جیسے اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے، تعلیمی اداروں، تاجروں اور عام شہریوں کو اس میں شامل کیا جائے تاکہ یہ ایک اجتماعی کوشش بن سکے۔
حکومت اور انتظامیہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ محض احکامات جاری کر دینا کافی نہیں ہوتا، بلکہ ان پر مؤثر اور منظم عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ جب تک پالیسیوں میں تسلسل، شفافیت اور عوامی شمولیت نہیں ہوگی، تب تک ایسے اقدامات اپنی روح کھو بیٹھیں گے۔
ملتان میں پیش آنے والی صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمیں اپنی ترجیحات اور طریقہ کار پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر واقعی ہم ارتھ ڈے جیسے مواقع کو بامعنی بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں نمائشی اقدامات سے نکل کر عملی اور دیرپا حل کی طرف جانا ہوگا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ روشنی بند کرنے سے زیادہ ضروری شعور کو روشن کرنا ہے۔ اگر ہم عوام کو ساتھ لے کر چلیں، انہیں اعتماد میں لیں اور ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں، تو نہ صرف توانائی کا تحفظ ممکن ہے بلکہ ایک ذمہ دار معاشرے کی تشکیل بھی ممکن ہو سکتی ہے۔ ورنہ اندھیرے صرف سڑکوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہماری پالیسیوں اور سوچ میں بھی نظر آتے رہیں گے۔






































Visit Today : 283
Visit Yesterday : 475
This Month : 4956
This Year : 52792
Total Visit : 157780
Hits Today : 2046
Total Hits : 703033
Who's Online : 5




















