جامعات کی عظمت یا اختیارات کی سلطنت؟ وائس چانسلرز کیوں عزت کے ساتھ رخصت نہیں ہوتے
جامعات کی عظمت یا اختیارات کی سلطنت؟ وائس چانسلرز کیوں عزت کے ساتھ رخصت نہیں ہوتے
تحریر: کلب عابد خان
03009635323
ملک میں اعلیٰ تعلیم کے مراکز کو ہمیشہ علم، تحقیق اور کردار سازی کے گہوارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یونیورسٹیاں وہ ادارے ہوتے ہیں جہاں سے نہ صرف ڈگریاں بلکہ قوم کا مستقبل بھی تشکیل پاتا ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی کئی جامعات میں انتظامی بحران، الزامات اور بدانتظامی کی ایسی کہانیاں سامنے آتی رہی ہیں جنہوں نے ان اداروں کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر وائس چانسلرز کے عہدوں کے حوالے سے یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ بہت کم وائس چانسلرز اپنے عہدے سے مکمل عزت اور وقار کے ساتھ رخصت ہو پاتے ہیں، جبکہ اکثر کے نام کے ساتھ تنازعات، تحقیقات اور کرپشن کے الزامات جڑ جاتے ہیں۔
ملتان کی بڑی درسگاہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی بھی اس بحث سے الگ نہیں رہی۔ یہ یونیورسٹی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی جامعات میں شمار ہوتی ہے جہاں ہزاروں طلبہ علم حاصل کرتے ہیں اور جہاں سے بے شمار ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور بیوروکریٹس نکل کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی سامنے آتی رہی ہے کہ مختلف ادوار میں یہاں انتظامی تنازعات، مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی خبریں بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام اور طلبہ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یونیورسٹی علم اور اخلاقیات کی درسگاہ ہے تو پھر اس کے سربراہان کیوں اکثر تنازعات کی زد میں آ جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ کسی ایک شخصیت یا ایک ادارے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک وسیع نظامی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔ پاکستان میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو بہت زیادہ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ تقرریوں، ترقیوں، مالی منصوبوں اور پالیسی سازی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس طاقت کے ساتھ مضبوط نگرانی اور شفاف احتساب کا نظام موجود نہ ہو تو اختیارات کا یہی ارتکاز مسائل کو جنم دیتا ہے۔ کئی مرتبہ ایسے فیصلے سامنے آتے ہیں جن پر اساتذہ، طلبہ اور ملازمین اعتراض کرتے ہیں اور یوں ادارہ اندرونی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ سیاسی مداخلت بھی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر جامعات میں وائس چانسلر کی تقرری مکمل طور پر تعلیمی میرٹ اور انتظامی قابلیت کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات سیاسی روابط اور اثر و رسوخ بھی اس عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ جب کسی اہم تعلیمی عہدے پر تقرری شفاف اور غیر جانبدار نہ ہو تو پھر اس کے نتائج بھی ادارے کے ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اساتذہ کے گروپس بن جاتے ہیں، انتظامیہ اور فیکلٹی کے درمیان فاصلے بڑھ جاتے ہیں اور یونیورسٹی کا اصل مقصد یعنی تعلیم اور تحقیق پس منظر میں چلا جاتا ہے۔
یونیورسٹیوں میں مالی معاملات بھی ایک حساس موضوع ہوتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے، تعمیرات، خریداری اور تحقیقی فنڈز جیسے معاملات اگر مکمل شفافیت کے ساتھ نہ چلائے جائیں تو پھر الزامات جنم لیتے ہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر الزام درست ہو، لیکن جب نظام شفاف نہ ہو تو شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری بات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کئی وائس چانسلرز کو اپنے عہدے کے اختتام پر تحقیقات یا تنازعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے ان کی ذاتی ساکھ کے ساتھ ساتھ ادارے کی عزت بھی متاثر ہوتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ یونیورسٹی کے اندرونی تنازعات بعض اوقات ذاتی یا گروہی مفادات کی وجہ سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ اساتذہ کی تنظیمیں، ملازمین کے مسائل، طلبہ کی سیاست اور انتظامی فیصلے جب ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے ہیں تو پھر ماحول کشیدہ ہو جاتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر قیادت مضبوط، شفاف اور غیر جانبدار نہ ہو تو مسئلے بڑھتے جاتے ہیں اور بالآخر ہر معاملہ میڈیا اور عدالتوں تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر جامعات میں کوالٹی ایجوکیشن، عالمی رینکنگ اور جدید تحقیق کی بات کی جاتی ہے تو پھر انتظامی شفافیت اور اخلاقی قیادت کیوں نظر نہیں آتی۔ کسی بھی یونیورسٹی کی اصل طاقت اس کی عمارتیں یا بجٹ نہیں بلکہ اس کی ساکھ اور علمی ماحول ہوتا ہے۔ اگر اساتذہ اور طلبہ کو یہ احساس ہو کہ ادارہ شفاف اور انصاف پر مبنی ہے تو پھر وہی ادارہ ترقی کی منازل طے کرتا ہے۔ لیکن اگر اعتماد کا بحران پیدا ہو جائے تو بہترین تعلیمی پروگرام بھی اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔
اس صورتحال کا حل بھی موجود ہے لیکن اس کے لیے سنجیدہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے وائس چانسلر کی تقرری کا عمل مکمل طور پر شفاف اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے۔ سرچ کمیٹیاں آزاد اور بااختیار ہوں اور امیدواروں کی تعلیمی اور انتظامی صلاحیتوں کو بنیادی معیار بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے مالی معاملات کا باقاعدہ اور آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کو ختم کیا جا سکے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اور سینیٹ جیسے اداروں کو فعال بنایا جائے۔ اگر یہ ادارے مضبوط اور خود مختار ہوں تو وہ انتظامیہ کے فیصلوں پر موثر نگرانی رکھ سکتے ہیں اور کسی بھی بے ضابطگی کو بروقت روک سکتے ہیں۔ اسی طرح بھرتیوں، ترقیوں اور مالی منصوبوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور شفاف طریقے سے انجام دینا چاہیے تاکہ ہر فیصلہ ریکارڈ کا حصہ بنے اور کسی کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔
یونیورسٹی قیادت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک وائس چانسلر صرف منتظم نہیں بلکہ ایک اخلاقی رہنما بھی ہوتا ہے۔ اس کے فیصلے، رویہ اور طرزِ قیادت پورے ادارے کے ماحول کو متاثر کرتے ہیں۔ اگر قیادت عاجزی، دیانت اور شفافیت کو اپنا اصول بنا لے تو ادارے میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور تنازعات خود بخود کم ہو جاتے ہیں۔
جنوبی پنجاب کے عوام کی یہ خواہش ہے کہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی جیسی بڑی درسگاہ صرف تعلیمی میدان میں ہی نہیں بلکہ انتظامی شفافیت اور اخلاقی قیادت میں بھی مثال بنے۔ یہ ادارہ خطے کے لاکھوں نوجوانوں کے خوابوں سے جڑا ہوا ہے اور اس کی ساکھ پورے علاقے کے تعلیمی مستقبل پر اثر انداز ہوتی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ جامعات واقعی علم اور تحقیق کے مراکز بنیں تو پھر ہمیں نظام کو مضبوط اور شفاف بنانا ہوگا۔ ایسا نظام جہاں اختیارات کے ساتھ احتساب بھی ہو، جہاں تقرریاں میرٹ پر ہوں اور جہاں قیادت ادارے کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے۔ جب یہ اصول اپنائے جائیں گے تو یقیناً وہ دن بھی آئے گا جب یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپنے عہدے سے مکمل عزت اور وقار کے ساتھ رخصت ہوں گے اور ان کے نام کے ساتھ تنازعات نہیں بلکہ علمی خدمات کی روشن داستانیں جڑی ہوں گی۔







































Visit Today : 322
Visit Yesterday : 475
This Month : 4995
This Year : 52831
Total Visit : 157819
Hits Today : 2327
Total Hits : 703314
Who's Online : 6




















