وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے جعلی اخبارات کے خلاف میڈیا قوانین کے نفاذ کا مطالبہ

تحریر: زین العابدین عابد
پاکستان میں جمہوری معاشرے کی بقا اور ریاستی اداروں کی شفافیت کے لیے آزاد اور ذمہ دار صحافت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔ صحافت کا اصل مقصد عوام کو مستند معلومات فراہم کرنا، ریاستی امور پر نگرانی رکھنا اور معاشرے میں احتساب کے عمل کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم اگر صحافتی نظام میں ضابطہ، شفافیت اور قانونی نظم و ضبط نہ ہو تو یہی شعبہ انتشار، بداعتمادی اور غیر پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ پنجاب میں موجودہ میڈیا ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ یہاں میڈیا کے نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے، خصوصاً پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 2002 کے مؤثر اور عملی نفاذ کے بغیر صحافت کا ادارہ اپنی اصل روح برقرار نہیں رکھ سکتا۔
پاکستان میں اخبارات اور مطبوعات کے اجرا، رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے پریس، نیوز پیپرز، نیوز ایجنسیز اینڈ بکس رجسٹریشن آرڈیننس 2002 نافذ العمل ہے۔ اس قانون کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ملک میں شائع ہونے والی تمام مطبوعات باقاعدہ رجسٹریشن کے تحت ہوں تاکہ ان کی قانونی حیثیت، ذمہ داری اور احتساب واضح رہے۔ اس آرڈیننس کی شق 40 کے مطابق کسی بھی اخبار یا مطبوعہ جریدے کی اشاعت کے لیے باقاعدہ رجسٹریشن اور قانونی تقاضوں کی تکمیل لازمی ہے۔ اس کے باوجود عملی طور پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں ایسے متعدد اخبارات اور پرنٹرز موجود ہیں جو یا تو رجسٹرڈ نہیں یا ان کی اشاعت صرف کاغذی کارروائی تک محدود ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ صحافت کے معیار کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
بدقسمتی سے ضلعی سطح پر انتظامی اداروں میں میڈیا قوانین کے نفاذ کے حوالے سے سنجیدگی کا فقدان نظر آتا ہے۔ ہر ضلع کے ڈپٹی کمشنر آفس میں موجود پریس برانچ بنیادی طور پر اخبارات کے ڈیکلریشن، رجسٹریشن اور دیگر قانونی معاملات کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔ تاہم عملی صورتحال یہ ہے کہ اکثر اضلاع میں پریس برانچ کا انچارج ایسا افسر ہوتا ہے جسے میڈیا قوانین اور صحافتی ضوابط کی مکمل آگاہی نہیں ہوتی۔ نتیجتاً نہ تو اخبارات کی مناسب سکروٹنی ہوتی ہے اور نہ ہی غیر قانونی مطبوعات کے خلاف مؤثر کارروائی کی جاتی ہے۔ اگر پریس برانچ کے ذمہ دار افسران میڈیا قوانین سے مکمل آگاہی رکھتے ہوں تو ضلعی سطح پر اخبارات کے نظام کو بہت حد تک شفاف اور منظم بنایا جا سکتا ہے۔
مزید برآں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ پنجاب کے اکثر اضلاع میں مستند اخبارات کا باقاعدہ اور جدید ریکارڈ موجود نہیں۔ موجودہ دور میں جہاں سرکاری ادارے ڈیجیٹل گورننس کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہاں یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہر ضلع میں مستند اخبارات اور ان کے ڈیکلریشنز کا ریکارڈ آن لائن نظام کے تحت مرتب کیا جائے۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ کسی بھی اخبار یا پرنٹر کی قانونی حیثیت کی فوری تصدیق ممکن ہو سکے گی۔ اس حوالے سے وزارتِ اطلاعات و نشریات حکومتِ پاکستان اور رجسٹرار آف نیوز پیپرز فار پاکستان (RNP) کی جانب سے جاری کردہ قواعد و ضوابط اور سرکاری مراسلے واضح رہنمائی فراہم کرتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کئی ضلعی دفاتر ان ہدایات کو سنجیدگی سے نافذ نہیں کرتے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی ضلع میں جعلی یا غیر قانونی اخبارات اور پرنٹرز کا کاروبار پنپتا ہے تو اس کے اثرات صرف صحافتی نظام تک محدود نہیں رہتے بلکہ صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں تک بھی پہنچتے ہیں۔ ایسے افراد جو حقیقی صحافتی خدمات انجام نہیں دیتے، وہ محض کاغذی اخبارات کے سہارے پریس کلبوں کی رکنیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں صحافت کا وقار متاثر ہوتا ہے اور پیشہ ور صحافیوں کی نمائندگی کمزور پڑ جاتی ہے۔ اگر ضلعی سطح پر اخبارات کی سخت سکروٹنی کی جائے اور غیر رجسٹرڈ یا جعلی مطبوعات کے ڈیکلریشن منسوخ کر دیے جائیں تو پریس کلبوں میں صرف حقیقی اور فعال صحافیوں کی شمولیت ممکن ہو سکے گی۔
اسی طرح جدید میڈیا کے تناظر میں الیکٹرانک میڈیا کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آج کے دور میں ٹی وی چینلز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بیورو آفسز کے نمائندے صحافتی منظرنامے کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ صوبائی سطح کے ساتھ ساتھ ضلعی دفاتر میں بھی الیکٹرانک میڈیا کا باقاعدہ ریکارڈ مرتب کیا جائے۔ صرف انہی نمائندوں کو پریس کلبوں یا صحافتی تنظیموں کی رکنیت دی جائے جو کسی باقاعدہ آن ائیر چینل یا مستند ادارے کے بیورو آفس سے وابستہ ہوں۔ اس اقدام سے میڈیا کے پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ میڈیا کسی بھی معاشرے کی فکری اور جمہوری ترقی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر میڈیا کے اندر غیر قانونی اور غیر پیشہ ورانہ عناصر داخل ہو جائیں تو نہ صرف صحافت کا معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔ پنجاب میں میڈیا اصلاحات کے لیے ضروری ہے کہ پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 2002 پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ضلعی سطح پر اخبارات کی باقاعدہ سکروٹنی ہو، پریس برانچ کو قانونی اور پیشہ ورانہ بنیادوں پر مضبوط کیا جائے اور مستند اخبارات کا ریکارڈ ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کیا جائے۔
ملتان میں ڈپٹی کمشنر آفس کی پریس برانچ کی صورتحال نہایت افسوسناک اور ناگفتہ بہ دکھائی دیتی ہے، جہاں اخبارات سے متعلق بنیادی ریکارڈ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ مارچ 2023 میں اُس وقت کی اے ڈی سی جی (میڈیا) عابدہ فرید کی ہدایت پر ہماری درخواست کے نتیجے میں ملتان میں شائع ہونے والے اخبارات کی ایک فہرست مرتب کی گئی تھی، مگر افسوس کہ آج تک اس فہرست کو کمپیوٹرائزڈ نہیں کیا جا سکا۔ مزید برآں پریس برانچ کے انچارج یا متعلقہ کلرک کو پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس 2002 کی بنیادی شقوں تک کا خاطر خواہ علم نہیں، جس کے باعث انتظامی نگرانی تقریباً مفقود ہو چکی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ ملتان میں ڈپٹی کمشنر آفس کی مبینہ جعلی مہر کے ساتھ خود ساختہ ڈیکلریشن پر روزنامہ “اپنا اخبار” کی اشاعت جاری ہے، مگر پریس برانچ نے اس سنگین جعل سازی کے خلاف تاحال کوئی قانونی مقدمہ درج نہیں کرایا۔ اسی طرح سال 2000 میں ڈیکلریشن حاصل کرنے والے ایک اخبار نے 2026 تک اپنی رجسٹریشن مکمل نہیں کرائی، جس پر پریس رجسٹرار کی جانب سے اس کے ڈیکلریشن کی منسوخی کا حکم جاری کیا گیا، لیکن اس کے باوجود ڈپٹی کمشنر ملتان کی جانب سے کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ان حالات میں ضلعی انتظامیہ اور پریس برانچ کے عملے کی نااہلی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے باعث اخبارات کی قانونی حیثیت اور صحافتی نظم و ضبط شدید طور پر مجروح ہو کر رہ گیا ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے ہمارا مطالبہ ہے “کہ صحافت کی آزادی اور اس کی ذمہ داری دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ اس تناظر میں پریس قانون کی بالادستی اور شفاف نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس سے نہ صرف صحافت کا وقار بحال ہوگا بلکہ معاشرے میں فیک نیوز کا خاتمہ، سچائی اور احتساب کا عمل بھی مضبوط ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے پاکستان خصوصاً پنجاب میں ایک ذمہ دار، باوقار اور مؤثر میڈیا نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔”