بحران سے جدت تک — قومیں کیسے آگے بڑھتی ہیں؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
انیسویں صدی کے اختتام پر New York City ایک عجیب بحران کا شکار تھا، سڑکوں پر ایک لاکھ سے زائد گھوڑے موجود تھے، ہر گھوڑا روزانہ دس سے پندرہ کلو گوبر کرتا تھا، بارش میں کیچڑ اور بدبو شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی تھی اور گرمی میں خشک گندگی فضا میں اڑتی تھی، حادثات عام تھے کیونکہ گھوڑے ذرا سی آواز پر بدک جاتے تھے، مورخین نے اس کیفیت کو “Horse Manure Crisis” کا نام دیا اور 1894 کے اخبارات میں یہاں تک پیش گوئیاں کی گئیں کہ اگر یہی رفتار رہی تو شہر گوبر کے ڈھیروں تلے دب جائے گا، مگر انسان کی تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب مسئلہ حد سے بڑھتا ہے تو وہی مسئلہ نئے دور کی بنیاد بھی رکھتا ہے، بیسویں صدی کے آغاز میں پٹرول سے چلنے والی گاڑیاں سڑکوں پر آئیں، 1904 میں سب وے کا آغاز ہوا، 1910 سے 1920 کے درمیان گھوڑا گاڑیاں تقریباً ختم ہو گئیں اور 1908 میں Henry Ford کی Ford Model T نے عام آدمی کیلئے کار کو سستا بنا دیا، یوں ایک ایسا شہر جو کبھی گوبر اور بدبو کے بحران میں پھنسا ہوا تھا، جدید ٹرانسپورٹ، برقی ریل اور شہری منصوبہ بندی کی مثال بن گیا، آج بھی وہاں آلودگی کے مسائل ہیں مگر وہ واپس گھوڑوں کی طرف نہیں لوٹ رہا بلکہ الیکٹرک کاروں، جدید بسوں اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہا ہے، مسئلہ آیا تو انہوں نے آگے کا راستہ اختیار کیا، پیچھے نہیں لوٹے۔
اسی دور کی ایک اور مثال ہمیں انسانی وقار کا سبق دیتی ہے، جب Abraham Lincoln نے سیاست میں قدم رکھا تو ایک سینیٹر نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ تمہارا باپ تو ہمارے گھر کے جوتے مرمت کرتا تھا، لنکن نے جواب دیا کہ میرا والد جوتے نہیں بناتا تھا بلکہ فن تخلیق کرتا تھا، اگر تمہیں اس کے بنائے جوتوں پر کوئی شکایت ہے تو میں وہ ہنر اپنے باپ سے سیکھ چکا ہوں، تمہیں نئے جوتے بنا دوں گا، اس جواب نے ایوان کو خاموش کر دیا کیونکہ اس میں احساسِ کمتری نہیں بلکہ ہنر کی عزت تھی، یہی وہ ذہنیت ہے جو قوموں کو آگے لے جاتی ہے، جہاں کام کو کمتر نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے آرٹ اور عبادت کا درجہ دیا جاتا ہے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف نظر دوڑائیں تو ہمیں اپنی تاریخ میں بھی روشن مثالیں ملتی ہیں، Karachi اور Lahore جیسے شہروں میں کبھی ٹرامیں چلتی تھیں، ریلوے ایشیا کی بہترین ریلوے میں شمار ہوتی تھی، ادارے مضبوط تھے اور تعلیم و تحقیق کا معیار قابلِ فخر تھا، مگر وقت کے ساتھ ہم نے مسائل کو حل کرنے کے بجائے اکثر ان پر سیاست کی، انہیں جذبات کا ایندھن بنایا اور اصلاح کے بجائے الزام تراشی کو ترجیح دی، آج یہی شہر ٹریفک کے دباؤ، آلودگی، ناقص منصوبہ بندی اور بے ہنگم آبادی کا شکار ہیں، ہم جانتے ہیں کہ حل کیا ہے، جدید پبلک ٹرانسپورٹ، مؤثر شہری منصوبہ بندی، قانون کی بالادستی، میرٹ اور احتساب، مگر اکثر ہم ڈرتے ہیں کہ اگر نظام درست ہو گیا تو شاید ہمارا ذاتی فائدہ ختم ہو جائے، یہی خوف ہمیں آگے بڑھنے سے روکتا ہے۔
ہماری سڑکوں پر گاڑیوں کا بے ہنگم رش، غیر منصوبہ بند ہاؤسنگ سکیمیں، آلودہ فضا اور ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ اجتماعی رویوں کا عکس ہے، ہم میں بے شمار ہنرمند لوگ موجود ہیں، مزدور، مستری، درزی، مکینک، انجینئر، ڈاکٹر اور استاد، مگر ہم نے اجتماعی طور پر اپنے کام کو آرٹ بنانے کے بجائے اکثر شارٹ کٹ کو ترجیح دی، نتیجہ یہ کہ ہم مسئلے کے حل سے زیادہ مسئلے کے وجود پر انحصار کرنے لگے، ہم چاہتے ہیں کہ سسٹم ویسا ہی رہے تاکہ ہمارے تعلقات، سفارشیں اور وقتی مفادات قائم رہیں، جبکہ ترقی اس وقت آتی ہے جب قوم اجتماعی مفاد کو ذاتی فائدے پر ترجیح دیتی ہے۔
امریکہ اور ہم میں فرق وسائل کا نہیں بلکہ رویے کا ہے، انہوں نے ہر بحران کو جدت میں بدلا، ہم نے ہر بحران کو بحث میں بدل دیا، وہ آگے بڑھنے کیلئے پرانا چھوڑتے گئے، ہم پرانے کو بچانے کیلئے نئے سے لڑتے رہے، حالانکہ تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جو قومیں تبدیلی سے خوفزدہ ہوتی ہیں وہ وقت کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہیں، اور جو قومیں مسئلے کو موقع سمجھتی ہیں وہ نئی راہیں تلاش کر لیتی ہیں۔
تبدیلی کا آغاز دراصل ذہن سے ہوتا ہے، جب ہم یہ مان لیں کہ ہنر عزت ہے، قانون سب کیلئے برابر ہے، اور ترقی کا راستہ شارٹ کٹ سے نہیں بلکہ مسلسل محنت اور دیانت سے گزرتا ہے، جب ہم اپنی آنے والی نسلوں کیلئے صاف سڑکیں، بہتر تعلیمی ادارے اور منصفانہ نظام چھوڑنے کا عزم کریں گے تو تبدیلی ناگزیر ہو جائے گی، ہمیں گھوڑوں کے دور کی بدبو سے سبق لینا ہے اور برقی دور کی روشنی کی طرف قدم بڑھانا ہے، کیونکہ قومیں ماضی پر فخر کر کے نہیں بلکہ مستقبل کی تیاری کر کے زندہ رہتی ہیں، اور اگر ہم نے آج فیصلہ کر لیا کہ ہم بھی ہر بحران کو جدت میں بدلیں گے تو یقیناً آنے والا پاکستان زیادہ منظم، باوقار اور ترقی یافتہ ہوگا، شرط صرف اتنی ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کریں۔