مہنگی ادویات، بڑھتی بیماریاں — بڑے ہسپتالوں کے ہوتے ہوئے بھی شہری بیمار کیوں؟

تحریر: کلب عابد خان
03009635323
پاکستان میں صحت کا شعبہ بظاہر وسعت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے ہسپتال، جدید مشینری، پرائیویٹ میڈیکل سنٹرز اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی بھرمار نظر آتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب سہولیات بڑھ رہی ہیں تو بیماریاں کم کیوں نہیں ہو رہیں؟ آخر کیوں ہر گلی، ہر محلے میں شوگر، بلڈ پریشر، دل کے امراض، ہیپاٹائٹس، کینسر اور ذہنی دباؤ کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے؟ کیوں شہری علاج کے باوجود صحت مند نہیں ہو پا رہے؟
سب سے پہلی اور اہم وجہ مہنگی ادویات ہیں۔ عام آدمی کی آمدنی جتنی تیزی سے نہیں بڑھتی، اس سے کہیں زیادہ رفتار سے ادویات کی قیمتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایک عام مزدور یا تنخواہ دار شخص جب ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے تو فیس، ٹیسٹ، لیبارٹری چارجز اور دوائیوں کا خرچ ملا کر اس کی جیب خالی ہو جاتی ہے۔ اکثر مریض مکمل علاج کروانے کی استطاعت نہیں رکھتے، نتیجتاً وہ آدھا علاج کر کے دوائیاں چھوڑ دیتے ہیں، جس سے بیماری مزید پیچیدہ شکل اختیار کر لیتی ہے۔
دوسری بڑی وجہ علاج سے زیادہ کاروبار کا رجحان ہے۔ صحت کا شعبہ ایک خدمت کے بجائے منافع بخش صنعت بنتا جا رہا ہے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں داخلہ فیس سے لے کر ڈسچارج تک ہر مرحلے پر بھاری بل تھما دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی فیس الگ، بیڈ چارجز الگ، نرسنگ چارجز الگ، اور ٹیسٹوں کی فہرست اتنی طویل کہ مریض گھبرا جائے۔ کئی اوقات ایسے ٹیسٹ بھی تجویز کر دیے جاتے ہیں جو فوری طور پر ضروری نہیں ہوتے۔ مریض سوچتا ہے کہ شاید یہ سب اس کی بہتری کے لیے ہے، مگر اصل میں اس کا معاشی استحصال ہو رہا ہوتا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بظاہر علاج مفت ہے، مگر ادویات دستیاب نہیں ہوتیں۔ مریض کو باہر سے مہنگی دوائیاں خریدنے کا کہا جاتا ہے۔ لمبی قطاریں، عملے کی کمی، مشینری کی خرابی اور صفائی کے ناقص انتظامات الگ مسئلہ ہیں۔ غریب آدمی کے پاس آپشن ہی کیا رہ جاتا ہے؟ یا تو وہ قرض لے کر پرائیویٹ ہسپتال جائے یا سرکاری ہسپتال میں ذلت برداشت کرے۔
بڑھتی بیماریوں کی ایک اہم وجہ ہمارا طرزِ زندگی بھی ہے۔ فاسٹ فوڈ، ملاوٹ شدہ اشیاء، آلودہ پانی اور فضائی آلودگی نے انسانی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ شہروں میں صاف پانی کی فراہمی آج بھی ایک خواب ہے۔ فلٹریشن پلانٹس اکثر غیر فعال ہوتے ہیں۔ لوگ مجبوری میں آلودہ پانی پیتے ہیں، جس سے معدے اور جگر کے امراض عام ہو رہے ہیں۔ سڑکوں پر دھواں اگلتی گاڑیاں اور صنعتی آلودگی سانس اور پھیپھڑوں کے مریضوں میں اضافہ کر رہی ہے۔
ذہنی دباؤ بھی بیماریوں کا ایک بڑا سبب بن چکا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی عدم استحکام اور سماجی دباؤ نے لوگوں کی نفسیاتی صحت کو متاثر کیا ہے۔ ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے مسائل اب کسی ایک طبقے تک محدود نہیں رہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ذہنی صحت کو آج بھی سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ ماہرِ نفسیات کے پاس جانا معیوب سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ذہنی سکون کے بغیر جسمانی صحت ممکن نہیں۔
ایک اور پہلو میڈیکل اسٹورز اور ادویات کی قیمتوں کا غیر مؤثر کنٹرول ہے۔ بسا اوقات ایک ہی دوا مختلف میڈیکل اسٹورز پر مختلف قیمتوں میں فروخت ہو رہی ہوتی ہے۔ حکومت کی طرف سے قیمتوں کے تعین کے دعوے تو کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ عام شہری کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اصل قیمت کیا ہے اور وہ کتنی زائد رقم ادا کر رہا ہے۔
سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم بیماری کے بعد علاج پر زیادہ زور دیتے ہیں یا بیماری سے بچاؤ پر؟ ہمارے معاشرے میں احتیاطی تدابیر کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ صحت مند غذا، باقاعدہ ورزش، ویکسینیشن، اور سالانہ طبی معائنہ جیسے اقدامات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر حکومت اور نجی ادارے آگاہی مہمات چلائیں، اسکولوں اور کالجوں میں صحت سے متعلق تعلیم کو فروغ دیں، تو کئی بیماریاں ابتدا میں ہی روکی جا سکتی ہیں۔
صحت کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کی اشد ضرورت ہے۔ ادویات کی قیمتوں پر سخت کنٹرول، سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی بہتری، ڈاکٹروں کی ذمہ داری کا تعین، اور نجی ہسپتالوں کے نرخوں کی باقاعدہ جانچ ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہیلتھ انشورنس اسکیموں کو مؤثر بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو علاج کے لیے گھر یا زیور فروخت نہ کرنا پڑے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان اعتماد بحال ہو۔ مریض کو مکمل آگاہی دی جائے کہ کون سی دوا کیوں دی جا رہی ہے اور کون سا ٹیسٹ کیوں ضروری ہے۔ شفافیت سے نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ صحت کا معیار بھی بہتر ہوگا۔
آخر میں ہمیں بطور معاشرہ بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف اجتماعی آواز بلند کرنا ہوگی۔ صحت صرف حکومت یا ڈاکٹر کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم صاف پانی، صاف ماحول، متوازن غذا اور ذہنی سکون کو ترجیح دیں تو یقیناً بیماریوں کی شرح کم ہو سکتی ہے۔
بڑے ہسپتال اور جدید مشینری اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک عام شہری کو سستا اور معیاری علاج میسر نہ ہو۔ صحت کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔ اگر شہری بیمار ہوں گے تو معیشت، تعلیم اور سماجی ڈھانچہ سب متاثر ہوگا۔ وقت آ گیا ہے کہ صحت کو کاروبار نہیں بلکہ بنیادی حق سمجھا جائے۔ جب تک ادویات سستی، علاج شفاف اور احتساب مؤثر نہیں ہوگا، تب تک بڑے ہسپتالوں کے سائے میں بھی شہری بیمار ہی رہیں گے۔