ملتان: معروف ماہر امراض ہارمونز،دل،شوگر اینڈ بلڈ پریشر ڈاکٹر محمد اکمل مدنی نے 7 اپریل عالمی یوم صحت پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صحت صرف بیماری سے نجات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی فلاح کا نام ہے،صحت کی سہولتوں کے اعتبار سے 195 ممالک کی فہرست میں پاکستان 154ویں نمبر پر آتا ہے جس سے عیاں ہے کہ اتنی بڑی آبادی والا ملک ہونے کے باوجود یہاں صحت کی سہولتیں غیر تسلی بخش ہیں،ملک میں ہر 4 میں سے 1 شخص ذیابیطس کا شکار ہے اور روزانہ 675 بچے قابلِ علاج بیماریوں سے مر جاتے ہیں، اور اس کے علاؤہ دل،شوگر و بلڈ پریشر کے امراض کی وجہ سے بھی اموات کی شرح پر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے،عالمی یوم صحت کا مقصد متوازن غذا،ورزش اور صحت مند طرز زندگی کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نیند اور صحت مندانہ سرگرمیوں کی کمی،بسیار خوری اور غیر معیاری خوراک کے استعمال سے بھی طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں جن امراض قلب، ذیابیطس،ڈپریشن، ہیپاٹائٹس اور گردے کے امراض سمیت مختلف طبی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا ہے،صحت جیسی نعمت سے استفادہ کیلئے مکمل اور بھرپور نیند،صبح جلدی اٹھنا،چہل قدمی یا ورزش کے ساتھ ساتھ ذہنی و جسمانی صحت کیلئے سماجی میل جول اپنانا بھی ضروری ہے۔ڈاکٹر محمد اکمل مدنی نے کہا کہ عالمی یوم صحت کو ایک رسم کی بجائے ایک یوم عہد کے طور پر لیا جانا چاہئے کہ ہم اپنے نظام صحت کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اور بھرپور کوشش کریں گے،حکومت،ادارے،طبی ماہرین، میڈیا اور سب سے بڑھ کر عوام ایک ہو کر مثبت کوشش کریں تو ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔