ملتان پریس کلب، جمہوریت کی طرف منتقل
ملتان پریس کلب، جمہوریت کی طرف منتقل
تحریر: زین العابدین عابد
جنوبی پنجاب کے علمی، ادبی اور صحافتی افق پر درخشاں نام ملتان پریس کلب ایک بار پھر امید کی کرن بن کر ابھرا ہے۔ 2026-27 کے حالیہ انتخابات کے نتائج نے نہ صرف ایوانِ صحافت میں ایک نئی روح پھونکی ہے بلکہ برسوں سے جمع شدہ تحفظات اور شکوک و شبہات کے بادل بھی چھٹنے کی نوید سنائی ہے۔ یہ محض عہدوں کی تبدیلی نہیں، بلکہ اعتماد کی بحالی اور ادارہ جاتی تطہیر کی طرف ایک سنجیدہ قدم محسوس ہوتا ہے۔
کئی برسوں سے صحافتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا تھا کہ کلب کی باگ ڈور محدود ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی ہے۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں شفافیت، صحافی بہبود فنڈ کے استعمال، ممبرشپ کے غیر واضح قواعد، آڈٹ کے فقدان اور پریس کلب کی عمارت کو غیر متعلقہ یا غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے جیسے الزامات نے فضا کو مکدر کر رکھا تھا۔
عام صحافی یہ سوال اٹھاتے رہے کہ کیا یہ ادارہ واقعی صحافیوں کی اجتماعی آواز ہے یا چند افراد کی ملکیت؟
حالیہ انتخابات نے اس جمود کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پروفیشنل جرنلسٹس گروپ نے کانٹے دار مقابلے کے بعد جنرل سیکرٹری اور فنانس سیکرٹری سمیت اہم نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جنرل سیکرٹری کے لیے رپورٹر مظہر خان نے 305 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ ان کے مدمقابل جمشید رضوانی 295 ووٹ تک محدود رہے۔ فنانس سیکرٹری کی نشست پر روف مان نے 316 ووٹ حاصل کیے اور اپنے حریف کو واضح فرق سے شکست دی۔ نائب صدر کی ایک نشست پر حافظ سرفراز علی انصاری نے 295 ووٹ حاصل کیے، تاہم دوسری جانب خالد چوہدری 320 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ یہ نتائج اس امر کا اظہار ہیں کہ صحافتی برادری میں رائے کی تقسیم ضرور ہے، مگر تبدیلی کی خواہش غالب آ چکی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ کامیاب امیدواروں کی میڈیا گفتگو سے احتساب، شفافیت اور ادارہ جاتی اصلاحات کا واضح عزم جھلکتا ہے۔ اگر ماضی کے مالی معاملات کا باقاعدہ آڈٹ ہوتا ہے، ممبرشپ کے قواعد و ضوابط ازسرنو مرتب کیے جاتے ہیں، پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں بے ضابطگیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے اور بہبود فنڈ کو حقیقی مستحق صحافیوں تک پہنچایا جاتا ہے تو یہ صرف انتظامی اصلاح نہیں ہوگی بلکہ اعتماد کی بحالی کا تاریخی عمل ہوگا۔
جمہوریت کا حسن صرف ووٹ ڈالنے میں نہیں بلکہ جواب دہی، شفافیت اور قانون کی بالادستی میں مضمر ہے۔ ایک صحافتی ادارہ جو خود احتسابی سے گریز کرے، وہ معاشرے میں احتساب کی آواز کیسے بلند کر سکتا ہے؟ اسی لیے ملتان پریس کلب کی حالیہ پیش رفت کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر پریس کلب میں غیر متعلقہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کا سدباب کیا جاتا ہے، اور ادارے کو صرف پیشہ ورانہ، فکری اور فلاحی مقاصد تک محدود رکھا جاتا ہے تو یہ جنوبی پنجاب کی صحافت کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگلے برس کی کامیابی کا دارومدار نعروں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر ہوگا۔ صحافی برادری اب بیدار ہو چکی ہے؛ وہ وعدوں کے بجائے نتائج دیکھنا چاہتی ہے۔ اگر موجودہ قیادت ماضی کی شکایات کا ازالہ کر پاتی ہے تو یقیناً وہی گروپ دوبارہ اعتماد حاصل کرے گا۔ بصورتِ دیگر، جمہوریت کا پہیہ کسی اور سمت گھومنے میں دیر نہیں لگائے گا۔ کوئی شک نہیں کہ ملتان پریس کلب ایک بار پھر اصلاحِ احوال کی سنجیدہ بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ حالیہ دنوں میں ملتان کے صحافیوں کی جانب سے دو نہایت اہم اور اصولی مطالبات سامنے آئے ہیں جو محض انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ ادارہ جاتی وقار، پیشہ ورانہ احترام اور قانون کی بالادستی سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
صحافتی میدان میں خواتین کی شرکت کسی رعایت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی صلاحیت، محنت اور فکری توانائی کا اعتراف ہے۔ اس تناظر میں یہ مطالبہ کہ پریس کلب میں خواتین صحافیوں کے لیے ایک علیحدہ اور باوقار کمرہ مختص کیا جائے، نہایت معقول اور وقت کا تقاضا ہے۔ ایسا کمرہ نہ صرف پیشہ ورانہ یکسوئی کو ممکن بنائے گا بلکہ انہیں سماجی و معاشرتی موضوعات پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے ایک محفوظ فضا فراہم کرے گا۔ یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ عمومی ہال میں بعض مرد صحافیوں کی سگریٹ نوشی کے باعث پیدا ہونے والا دھواں خواتین کے لیے اذیت اور پریشانی کا سبب بنتا ہے۔ صحت کے تقاضوں اور پیشہ ورانہ آداب کے پیشِ نظر یہ ضروری ہے کہ یا تو مکمل طور پر تمباکو نوشی پر پابندی عائد کی جائے یا اس کے لیے علیحدہ جگہ مختص کی جائے۔ ایک مہذب اور باشعور ادارہ وہی ہوتا ہے جو اپنے اراکین، خصوصاً خواتین، کے وقار اور سہولت کو اولین ترجیح دے۔
دوسرا مطالبہ اپنی نوعیت میں قانونی اور بنیادی ہے: پریس کلب کے آئین کی مکمل بحالی تاکہ “رول آف لاء” کے تحت ووٹر لسٹ کی شفاف اسکروٹنی ممکن ہو سکے۔ کسی بھی جمہوری ادارے کی اساس اس کے آئین، قواعد و ضوابط اور منصفانہ انتخابی عمل پر قائم ہوتی ہے۔ اگر ووٹر لسٹ کی تیاری اور جانچ میں ابہام یا بے ضابطگی کا شائبہ بھی ہو تو پورا انتخابی ڈھانچہ مشکوک ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ آئین کی روشنی میں ووٹر لسٹ کی جامع اور غیر جانبدارانہ چھان بین کی جائے، اہلیت کے معیار واضح ہوں، اور ہر رکن کو یہ اطمینان ہو کہ اس کا ووٹ برابر کی حیثیت رکھتا ہے۔ قانون کی بالادستی کا مطلب یہی ہے کہ فیصلے افراد کی خواہش پر نہیں بلکہ تحریری قواعد کے مطابق ہوں۔ یہی طرزِ عمل ادارے کو شخصی اثر و رسوخ سے نکال کر اصولی بنیادوں پر استوار کرتا ہے۔
آج ملتان پریس کلب ایک نازک مگر امید افزا موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر قیادت خلوصِ نیت، دیانت داری اور قانون کی پاسداری کو اپنا شعار بنائے رکھتی ہے تو یہ ادارہ محض ایک عمارت نہیں رہے گا بلکہ جنوبی پنجاب میں صحافتی آزادی، پیشہ ورانہ وقار اور جمہوری اقدار کی علامت بن کر ابھرے گا۔ یہی وہ راستہ ہے جو کسی بھی ادارے کو شخصیات کے سائے سے نکال کر اصولوں کی روشنی میں لے جاتا ہے ، اور بظاہر ملتان پریس کلب نے اسی سمت قدم بڑھا دیا ہے۔








































Visit Today : 25
Visit Yesterday : 475
This Month : 4698
This Year : 52534
Total Visit : 157522
Hits Today : 150
Total Hits : 701137
Who's Online : 6




















