پارکنگ مافیا کا شہر: ملتان میں غیر قانونی وصولیوں کا بے لگام نظام
پارکنگ مافیا کا شہر: ملتان میں غیر قانونی وصولیوں کا بے لگام نظام
تحریر: کلب عابد خان
رابطہ: 03009635323
ملتان جو اپنی تہذیب، روایات اور صدیوں پرانی شناخت کے باعث پہچانا جاتا ہے آج ایک ایسے خاموش مگر مسلسل بڑھتے ہوئے مسئلے کی زد میں ہے جس نے عام شہری کی روزمرہ زندگی کو اذیت بنا دیا ہے، یہ مسئلہ ہے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز اور ان کے ذریعے ہونے والی کھلی لوٹ مار، شہر کے تقریباً ہر بڑے کمرشل پلازہ، مارکیٹ، سرکاری دفتر، اسپتال، شادی ہال اور مصروف سڑک کے کنارے پارکنگ کے نام پر من مانے پیسے وصول کیے جا رہے ہیں، نہ کوئی ریٹ لسٹ آویزاں ہے، نہ کوئی قانونی اجازت نامہ دکھایا جاتا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا جاتا ہے کہ وصول کی جانے والی رقم آخر کس مد میں لی جا رہی ہے، شہری مجبوراً گاڑی یا موٹر سائیکل کھڑی کرتا ہے اور چند منٹ بعد ایک پرچی تھما دی جاتی ہے، اگر سوال کیا جائے تو بدتمیزی، دھمکی یا “یہاں ایسے ہی ہوتا ہے” جیسا جواب ملتا ہے، افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ دن دہاڑے ہو رہا ہے اور قانون خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، خاص طور پر Multan کے کمرشل علاقوں میں یہ مافیا اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ عام آدمی خود کو بے بس محسوس کرتا ہے، سرکاری دفاتر کے باہر بنے پارکنگ اسٹینڈ جہاں شہری ٹیکس دینے کے باوجود سہولت کا حق رکھتے ہیں وہیں بھی غیر قانونی وصولیاں کی جا رہی ہیں، کئی دفاتر کے باہر مستقل طور پر پارکنگ مافیا قابض ہے اور روزانہ ہزاروں روپے بٹورے جا رہے ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں، شادی ہالز کی صورتحال اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے جہاں تقریبات میں آنے والے مہمانوں سے زبردستی پارکنگ فیس وصول کی جاتی ہے حالانکہ قانونی طور پر یہ ذمہ داری شادی ہال انتظامیہ کی ہوتی ہے کہ وہ پارکنگ کی سہولت مفت فراہم کرے یا کم از کم واضح اجازت اور ریٹس کے ساتھ وصولی کرے، مگر یہاں تو نہ قانون دکھایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی محکمے کا خوف نظر آتا ہے، سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب غیر قانونی ہے تو کارروائی کیوں نہیں ہو رہی، کیا ضلعی انتظامیہ اس صورتحال سے لاعلم ہے یا دانستہ چشم پوشی کی جا رہی ہے، ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر عام شہری شکایت کرنا چاہے تو جائے کہاں، کس دفتر کے دروازے پر دستک دے، فون کرے تو نمبر بند، دفتر جائے تو کہا جاتا ہے درخواست دیں، درخواست دی جائے تو فائل دب جاتی ہے اور نتیجہ صفر، یہی وجہ ہے کہ پارکنگ مافیا دن بدن مضبوط ہو رہی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ شکایت کا کوئی مؤثر اور فوری نظام موجود نہیں، ایسے میں Punjab Enforcement & Regulatory Authority جیسے اداروں کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے، اگر پیرا واقعی عوامی مفاد کے لیے قائم کیا گیا ہے تو اسے غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز کے خلاف واضح، فوری اور نظر آنے والی کارروائی کرنی چاہیے، سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ شہریوں کو یہ معلوم ہو کہ شکایت کہاں اور کیسے کرنی ہے، آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل فون ہے تو شکایات کے لیے تحریری درخواستوں اور دفتری چکروں کے بجائے ایک سادہ اور مؤثر نظام متعارف کرایا جانا چاہیے، ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر مخصوص واٹس ایپ نمبرز جاری کیے جائیں جو نمایاں طور پر پبلک مقامات، پارکنگ ایریاز، کمرشل پلازوں اور سرکاری دفاتر کے باہر آویزاں ہوں، شہری اگر کسی غیر قانونی پارکنگ وصولی کی ویڈیو یا تصویر بنا کر اسی نمبر پر بھیج دے تو فوری ایکشن لیا جائے، شکایت کنندہ کو ٹریکنگ نمبر دیا جائے تاکہ وہ جان سکے کہ اس کی شکایت کہاں تک پہنچی اور کیا کارروائی ہوئی، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کارروائی صرف کاغذی نہ ہو بلکہ عملی طور پر نظر آئے، غیر قانونی پارکنگ اسٹینڈز کو فوری سیل کیا جائے، ملوث افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں اور دوبارہ خلاف ورزی کی صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، شادی ہالز، کمرشل پلازوں اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کو واضح ہدایات جاری کی جائیں کہ پارکنگ کے حوالے سے قانون کیا ہے اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں کیا سزا ہو گی، جب تک قانون کا خوف پیدا نہیں ہو گا اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا، ملتان کے شہری پہلے ہی مہنگائی، ٹریفک جام اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں، ایسے میں پارکنگ کے نام پر روزانہ کی بنیاد پر لوٹا جانا ایک اضافی ذہنی اور مالی دباؤ ہے، یہ صرف چند روپے کا مسئلہ نہیں بلکہ شہری کے وقار اور ریاستی رٹ کا سوال ہے، اگر آج غیر قانونی پارکنگ پر خاموشی اختیار کی گئی تو کل یہی مافیا مزید طاقتور ہو کر دوسرے شعبوں میں بھی سر اٹھائے گی، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پنجاب، ضلعی انتظامیہ اور پیرا فوری طور پر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں، عوام کو ایک واضح، آسان اور قابلِ رسائی شکایتی نظام دیں اور یہ پیغام دیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، ورنہ یہ شہر جسے اولیاؤں کا شہر کہا جاتا ہے، مافیا کے شہر کے طور پر پہچانا جانے لگے گا، اور یہ شناخت کسی صورت ملتان کے شایانِ شان نہیں۔








































Visit Today : 81
Visit Yesterday : 475
This Month : 4754
This Year : 52590
Total Visit : 157578
Hits Today : 472
Total Hits : 701459
Who's Online : 6




















