ملتان(صفدربخاری سے) ملتان شہر میں جرائم کی مختلف وارداتوں میں اضافہ شہریوں کیلئے باعثِ تشویش بنتا جا رہا ہے۔ خصوصاً لوکل روٹس پر چلنے والے رکشوں اور ویگنوں میں سفر کے دوران مسافروں کو نشہ آور دوا سونگھا کر لوٹنے کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب رمضان المبارک کی آمد سے قبل پیشہ ور گداگروں کی بڑی تعداد بھی شہر میں پہنچ چکی ہے۔ ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد مسافروں کے برابر بیٹھ کر پہلے باتوں میں الجھاتے ہیں اور پھر کسی بہانے نشہ آور دوا سونگھا دیتے ہیں جس کے بعد متاثرہ شخص نیم بے ہوش ہو جاتا ہے اور ملزمان نقدی، موبائل فون اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو جاتے ہیں۔ اسی نوعیت کی ایک واردات گزشتہ روز اس وقت پیش آئی جب ایک طاہرہ نامی خاتون چوک قذافی سے نئے اڈے کی جانب رکشہ میں سفر کر رہی تھی۔ خاتون رکشے کی پچھلی نشست پر اکیلی بیٹھی ہوئی تھی کہ راستے میں رکشہ ڈرائیور نے مزید تین خواتین کو اس کے ساتھ بٹھا دیا۔ تینوں خواتین نے پہلے اسے گفتگو میں مصروف رکھا اور عینک درست کرنے کے بہانے اسے کوئی نامعلوم دوا سونگھا دی جس کے بعد وہ بے خبر ہو گئی۔ متاثرہ خاتون کو ہوش آیا تو وہ خود کو سڑک کنارے کھڑا پایا جبکہ اس کے بیگ سے نقدی اور قیمتی سامان غائب تھا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے گروہ منظم انداز میں سرگرم ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب رمضان المبارک سے قبل پیشہ ور گداگروں کی غیر معمولی آمد بھی شہریوں کیلئے مسئلہ بن گئی ہے۔ غیر مقامی افراد کی بڑی تعداد مرکزی بازاروں، تجارتی مراکز، شاہراہوں اور عبادت گاہوں کے باہر جمع ہو رہی ہے اور منظم نیٹ ورک کے تحت شہر میں داخل ہو رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث روزمرہ معمولات متاثر، ذہنی دباؤ میں اضافہ اور سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عوام نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملتان سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری کارروائی کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر اور پیشہ ور گداگروں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ شہری رمضان المبارک پرامن ماحول میں گزار سکیں۔