اگیتی کاشت: کپاس کی بحالی کی جانب پہلا قدم
اگیتی کاشت: کپاس کی بحالی کی جانب پہلا قدم
تحریر: ساجد محمود
گزشتہ سیزن پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی دیکھنے کو آئی، جس کے نتیجے میں صرف 5.5 ملین کپاس کی گانٹھیں حاصل ہوئیں جس کے باعث ملکی معیشت، کاٹن انڈسٹری اور کسانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس بحران نے نہ صرف زراعت کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑائی بلکہ حکومتی سطح پر بھی اس پر گہری فکر کا اظہار کیا گیا۔ کپاس کی فصل کا دیگر مسابقتی فصلات کے مقابلے میں کم منافع بخش ہونا، کپاس کی تحقیق و ترقی کے لیے ناکافی فنڈز، سب سے بڑے اسٹیک ٹیکسٹائل ملز مالکان کی کپاس کے فروغ میں عدم دلچسپی ، ملکی کپاس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس اور درآمدی کپاس پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ اور موسمیاتی تبدیلیاں اور کیڑے مکوڑے خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی ملکی پیداوار میں مسلسل کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ اسی لیے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، کم پیداواری لاگت اور کم محنت کے باعث کپاس کی اگیتی کاشت کا رجحان اب آہستہ آہستہ بڑھتا جارہا ہے ۔ آئندہ نئے سیزن میں کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز نے کپاس کی اگیتی کاشت سے متعلق ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی ہے، جس میں حکومت، کسان، اور تحقیقاتی ادارے سب ایک پیج پر ہیں۔ پنجاب میں آئندہ سیزن کے لیے دس لاکھ ایکڑ پر اگیتی کپاس کی کاشت کرانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ سیکرٹری زراعت پنجاب نے اعلان کیا کہ 15 فروری سے باقاعدہ طور پر کاشت کا آغاز کیا جائے گا، اور اس کاشت کو فروغ دینے کے لیے ایک خصوصی پیکیج متعارف کرایا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت، کپاس کی کاشت کے لیے دستیاب زمینوں کا ریکارڈ مکمل کر لیا گیا ہے اور اگیتی کاشت کرنے والے کسانوں کی فہرستیں تیار کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، ٹرپل جین اقسام کے بیجوں کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی، اور صوبائی، ڈویڑنل اور ڈسٹرکٹ سطح پر کاٹن مینجمنٹ کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں تاکہ اس اہم عمل کو موثر طور پر چلایا جا سکے۔ امسال، ملتان میں 3 لاکھ 80 ہزار ایکڑ، ڈی جی خان میں 2 لاکھ 15 ہزار ایکڑ، بہاولپور میں 1 لاکھ 50 ہزار ایکڑ، ساہیوال اور فیصل آباد ڈویژن میں بالترتیب 1 لاکھ 20 ہزار ایکڑ اور سرگودھا ڈویژن میں 15 ہزار ایکڑ پر اگیتی کپاس کی کاشت کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اسی طرح سندھ کے بڑے کاٹن زونز سانگھڑ، بدین، میرپور خاص، حیدر آباد اور عمر کوٹ وغیرہ میں بھی کپاس کی اگیتی کاشت بارے کاشتکاروں میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ علاوہ اذیں زیریں سندھ کے مختلف علاقہ جات ٹھٹھہ،بدین سجاول، ڈھورونارو،کنری،ٹنڈو اللہ یار ٹنڈو جام اورسمندر کے قریبی علاقہ جات کپاس کاشت کے لئے نہایت سازگار اور موزوں موسمی حالات ہیں وہاں پر بھی اگیتی کاشت میں اضافہ متوقع ہے۔ امید ہے نئے سیزن میں زیادہ سے زیادہ رقبے پر کپاس کی اگیتی کاشت لگائی جائے گی۔ کپاس کی اگیتی کاشت کی حوصلہ افزائی اور اس کی بحالی کے لیے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے ماتحت ادارے پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کی جانب سے بھی پہلی قومی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز نے مل کر آئندہ سیزن کے لیے کپاس کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق کیا ہے۔ کاٹن کانفرنس سے یہ اُمید پیدا ہوئی ہے کہ 15 فروری سے شروع ہونے والے نئے سیزن میں کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو گا۔ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر بھرپور تیاریوں کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ کپاس کے شعبے کو استحکام اور ترقی کی نئی راہ مل سکے۔ زرعی ماہرین کے مطابق کاشتکار اگیتی کاشت کے لیے 60 فیصد والا 5 تا6 کلوگرام بُر اترا ہوا بیج استعمال کریں۔ پودوں کی فی ایکڑ تعداد وقت کاشت،زمین کی زرخیزی،ثمردار شاخوں کی لمبائی،غیر ثمردار شاخوں کی تعداد اور بیج کی قسم پر منحصر ہے ۔ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کاشتکار اگیتی کپاس سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کیلئے ترجیحاً ٹرپل جین منظور شدہ اقسام وسط فروری تا 31 مارچ تک پنجاب کے اُن تمام علاقہ جات جہاں کپاس لگائی جا سکتی ہے کاشت مکمل کر لیں۔ کاشتکار 31 مارچ تک کاشت کیلئے زرعی ماہرین کی سفارشات کے مطابق قطاروں کا باہمی فاصلہ 2.5 فٹ اور پودوں کا باہمی فاصلہ 1.5 تا 2 فٹ رکھیں۔ کپاس کے کاشتکار پودوں کی فی ایکڑ سفارش کردہ تعداد کے حصول کیلئے بیج کی جرمینیشن کا ٹیسٹ پہلے کروا لیں۔کاشتکار بیج کی خریداری سے قبل سرٹیفائیڈ بیج کے بیگ پر کمپنی کے لیبل اور تصدیقی ٹیگ کو لازماًچیک کریں۔ اگیتی کاشت موسمی کاشت سے زیادہ پیداوار دیتی ہے کیونکہ اس پر رس چوسنے والے کیڑوں کا حملہ کم ہوتا ہے اور درجہ حرارت نارمل ہونے کی وجہ سے پودے کی نشوونما اور بڑھوتری تیزی سے ہوتی ہے جس سے پیداوار اور کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔ بوائی سے قبل کاشتکار سفارش کردہ بیج کو کیڑے مار اور پھپھوندی کش زہر ضرور لگائیں۔ نئے سیزن میں فروری تا مارچ کپاس کی بوائی سے کاٹن انڈسٹری میں کسانوں اور اسٹیک ہولڈرز کو درپیش چیلنجوں کا ایک امید افزا حل نظر آرہا ہے۔ تاہم معاون پالیسیوں، توسیعی خدمات اور صلاحیت سازی کے اقدامات کے ذریعے کسانوں کی تربیت وآگاہی، جدید کاشتکاری کے طریقوں اورٹیکنالوجی کی منتقلی سے اسے مزید کامیاب بنایا جا سکتا ہے۔







































Visit Today : 406
Visit Yesterday : 475
This Month : 5079
This Year : 52915
Total Visit : 157903
Hits Today : 3108
Total Hits : 704095
Who's Online : 8




















