ملتان :  جمیعت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ ملک کو بچانے کے لیے دینی جماعتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ دینی جماعتیں ہی ملک کو بچا سکتی ہیں جمہوریت میں الیکشن ہوتے ہیں مگر یہاں سلیکشن ہے 8 فروری 2024 کو انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا,ہم نے 9 فروری کو ہی الیکشن کو مسترد کرکے دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کیا تھا,جمہوریت میں الیکشن ہوتے ہیں اسلامی ریاست کا تصور تو بالکل ختم ہو گیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مدرسہ قاسم العلوم گلگشت میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر جے یو ائی کے ضلعی ناظم مفتی عامر محمود،جنرل سیکریٹری نور خان ہانس ایڈوکیٹ ،ضلع ناظم اطلاعات رانا محمد سعید سمیت حافظ محمد عمر شیخ،قاری محمد یاسین،مولانا زاہد حبیب،ملک سجاد وینس،ملک منظور احمد کالرو سمیت دیگر بھی موجود تھے مولانا عبدالغفور حیدری نے مزید کہا کہ حکومت نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی،لاء ان آرڈر کا مسئلہ ہے معاشی طور پر ریاست عدم استحکام کا شکار ہے بلوچستان میں بھی ریاست نام کی کوئی چیز نہیں جہاں بلوچوں نے اپنا ترانہ اور پرچم بنایا ہے منظور پشتین نے کہا کہ ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے کب تک چلنا ہے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کا حق ہے,پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہوں, بامقصد اور بااختیار مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں,ہم اپوزیشن میں ہیں ہمیں ملک کی فکر ہے ملک معاشی طور پر عدم استحکام سے دوچار ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی خراب ہے کیا کچے کے ڈاکو ہماری فورسز سے زیادہ طاقتور ہیں ؟کچے کے ڈاکو لوگوں کو انکے اہل خانہ کے ہمراہ اغوا کررہے ہیں,حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگ شہید ہوتے رہے مگر انہوں نے غزہ نہیں چھوڑا مگر اسرائیل کے 2 لاکھ سے زائد یہودی ملک چھوڑ گئے,ہم غزہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہیں,ٹرمپ نہتے فلسطینیوں کا قاتل ہے اس کے بیان کی مذمت کرتے ہیں پیکا ایکٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیااور کہا کہ حکومت آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کی مجاز نہیں کیونکہ ہمارا آئین ہمیں آزادی اظہار رائے کا حق دیتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو بھی کہا کہ ہمارے جوان شہید ہو رہے ہیں اخر یہ نوبت یہاں تک کیوں پہنچی ہے ہم اپوزیشن میں ہیں اور ہمیں پریشانی ہے ان بڑے بڑے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے جن کا پارلیمنٹ سے کوئی تعلق تک نہیں ہے جو بدتمیزی اج دیکھنے میں ائی ہے اس سے پہلے نہ تھی ہم دوبارہ الیکشن کے انعقاد پر اج بھی قائم ہیں اج اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دینی جماعتیں متحد ہوں جس طرح 26 ویں ترمیم پر دینی جماعتیں متحد ہوئیں اور قائد مولانا فضل الرحمن پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا جس کی وجہ سے صدر مملکت نے مدارس رجسٹریشن کے بل پر دستخط نہیں کیے ۔