تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 22 اپریل کو پاکستان پہنچیں گے اور وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور عسکری قیادت سے ملاقات کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا تھا۔ خیال رہے کہ رواں برس کے آغاز میں ایران نے پاکستانی علاقے میں میزائل حملہ کیا تھا جس پر پاکستان نے سفارتی سرگرمیاں معطل کردی تھیں اور جوباً ایران میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سرگرمیاں بحال ہوگئی تھیں اور ممکنہ طور پر دونوں ممالک کے درمیان گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی بات چیت جاری ہے۔ حال ہی میں ایران نے پاسداران انقلاب کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے غیر ملکی بحری جہاز پر پھنسے پاکستانیوں کو ان کی قومیتوں کی تصدیق اور قانونی رسمی کارروائیوں کے بعد رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایران کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی رہائی دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کی اہمیت مشرق وسطیٰ کے تناظر میں کافی بڑھ گئی ہے۔ ایران نے شام میں اپنے سفارت خانے پر حملے کے جواب میں اسرائیل پر 300 کے قریب میزائل اور ڈرونز داغے۔ ایران کے اس حملے کے بعد سے سلامتی کونسل اور جی-7 ممالک کے اجلاس میں ایران پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ امریکا سمیت دیگر ممالک نے ایران کو سخت نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔