ملتان ایونیو: خواب، دعوے اور سست رفتار حقیقت

تحریر: کلب عابد خان
03009635323

ملتان جیسے تاریخی اور تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں جدید انفراسٹرکچر کی ضرورت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اسی تناظر میں سیّدان والا چوک سے ساہو چوک تک 9 کلومیٹر طویل “ملتان ایونیو” کا منصوبہ ایک بڑی امید کے طور پر سامنے آیا۔ 2 ارب 80 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع ہونے والا یہ منصوبہ نہ صرف ایک کشادہ اور جدید شاہراہ کی تعمیر کا وعدہ کرتا تھا بلکہ اسے شہری احیاء (Urban Regeneration) کا عملی نمونہ بھی قرار دیا گیا۔ مگر افسوس، وعدوں اور حقیقت کے درمیان جو فاصلہ پیدا ہوا ہے، وہ شہریوں کے لیے ایک نئی پریشانی بن چکا ہے۔
اس منصوبے کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ موجودہ ڈوئل کیرج وے کو تین لین پر مشتمل جدید شاہراہ میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ ساتھ ہی 260 نئی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب سے نہ صرف خوبصورتی بلکہ سیکیورٹی میں بھی اضافہ ہونا تھا۔ مرکزی میڈین کو گرین بیلٹ میں تبدیل کر کے اسے ڈسٹ فری اور ماحول دوست بنانے کا خواب بھی دکھایا گیا۔ یہ تمام اقدامات یقیناً ایک ترقی یافتہ شہر کی پہچان ہوتے ہیں، اور ملتان کے شہری بھی اسی امید کے ساتھ اس منصوبے کو دیکھ رہے تھے۔
بارشوں کے پانی کی نکاسی کے لیے جدید اسٹورم واٹر ڈرینیج سسٹم کی تعمیر ایک نہایت اہم قدم تھا، کیونکہ ماضی میں ملتان کی سڑکیں بارش کے بعد تالاب کا منظر پیش کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح دونوں اطراف 16 فٹ چوڑی سروس روڈز کی تعمیر کا مقصد ٹریفک کو منظم کرنا اور مقامی آمد و رفت کو مرکزی شاہراہ سے الگ کرنا تھا، جو کہ ایک بہترین شہری منصوبہ بندی کی مثال بن سکتا تھا۔
گرین پارک ویز کا تصور اس منصوبے کو دیگر روایتی سڑکوں سے ممتاز بناتا ہے۔ 14 فٹ چوڑی اور مجموعی طور پر تقریباً 18 کلومیٹر طویل گرین پٹی، واکنگ ٹریکس، بینچز، اوپن جم اور خوبصورت لینڈ اسکیپنگ جیسے عناصر نہ صرف ماحول کو بہتر بناتے بلکہ شہریوں کو تفریح اور صحت مند سرگرمیوں کے مواقع بھی فراہم کرتے۔ پارکنگ کے منظم سیکشنز، جن میں تقریباً 1600 گاڑیوں کی گنجائش رکھی گئی، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے تھے۔
لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ حقیقت میں بدل پایا؟ منصوبے کا افتتاح 5 نومبر 2025 کو کیا گیا اور اسے محض 4 ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ مگر آج، چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود، منصوبہ سست روی کا شکار ہے۔ جگہ جگہ ادھوری کھدائی، نامکمل سڑکیں، اور غیر فعال مشینری شہریوں کے لیے اذیت کا باعث بن چکی ہیں۔
شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک جام، دھول مٹی، اور متبادل راستوں کی کمی کا سامنا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ رہائشی علاقوں کے مکین مسلسل پریشانی میں مبتلا ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکتا تھا تو پھر غیر حقیقی ڈیڈ لائن کیوں دی گئی؟ کیا یہ صرف ایک نمائشی اعلان تھا یا پھر منصوبہ بندی میں کوئی بنیادی خامی موجود ہے؟
یہ بھی حقیقت ہے کہ کسی بھی بڑے ترقیاتی منصوبے میں مشکلات آ سکتی ہیں، لیکن اصل امتحان انتظامیہ کی سنجیدگی اور رفتار کا ہوتا ہے۔ اگر کام کی رفتار سست ہو اور عوام کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہو تو بہترین منصوبہ بھی تنقید کی زد میں آ جاتا ہے۔ ملتان ایونیو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے، جہاں ایک بہترین آئیڈیا عملی کمزوریوں کا شکار نظر آتا ہے۔
مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ملتان ایونیو کو شہر کے دیگر اہم راستوں کے ساتھ مربوط کرنے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ کسی بھی بڑی شاہراہ کی کامیابی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس سے جڑنے والی ملحقہ شاہراہیں بھی اسی معیار پر تیار ہوں۔ اگر عوام کو شہر کے اندر سے ملتان ایونیو تک پہنچنے میں ہی مشکلات کا سامنا ہو تو یہ منصوبہ اپنی افادیت کھو بیٹھے گا۔
خاص طور پر ننگانہ چوک کی صورتحال اس وقت ایک مثال بن چکی ہے جہاں کشادگی کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کے بجائے بڑھ رہا ہے، اور مستقبل میں یہی چوک ملتان ایونیو کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اسی طرح ایم اے جناح روڈ، جو آنے والے وقت میں اس منصوبے کی وجہ سے مزید مصروف ہونے جا رہی ہے، اس پر عدم توجہ ایک بڑی خامی ہے۔ اگر اس اہم شاہراہ کو منصوبے کا حصہ نہ بنایا گیا تو ٹریفک کا بوجھ بے قابو ہو سکتا ہے اور سارا منصوبہ اپنی افادیت کھو سکتا ہے۔
یہ ایک بنیادی اصول ہے کہ اگر مرکزی شاہراہ کو جدید بنایا جائے مگر اس کے فیڈر روڈز اور ملحقہ راستے نظر انداز کر دیے جائیں تو پورا ٹریفک سسٹم عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہی خطرہ اس وقت ملتان ایونیو کے ساتھ بھی منڈلا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے اس منصوبے کو صرف ایک سڑک تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے ایک مکمل اربن ٹریفک سسٹم کے طور پر دیکھیں۔ ملحقہ شاہراہوں کی فوری تعمیر و مرمت، چوکوں کی درست منصوبہ بندی، اور ٹریفک کے بہاؤ کو سائنسی بنیادوں پر منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملتان ایونیو محض ایک سڑک نہیں بلکہ شہر کی ایک نئی شناخت بن سکتا ہے، ایک ایسا گرین کوریڈور جو ترقی، خوبصورتی اور سہولت کا امتزاج ہو۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ دعووں کو حقیقت میں بدلا جائے، سست روی کو ختم کیا جائے، اور منصوبے کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت مکمل کیا جائے۔
اگر یہ منصوبہ بروقت اور مکمل وژن کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے تو یہ ملتان کے شہری انفراسٹرکچر میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ بصورت دیگر، یہ ایک ادھورا خواب بن کر رہ جائے گا—جہاں ایک خوبصورت شاہراہ تو ہوگی، مگر اس تک پہنچنے کا راستہ مسائل سے بھرا ہوگا۔