اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مدد معاشرے کی حقیقی ضرورت
اعلانیہ اور غیر اعلانیہ مدد معاشرے کی حقیقی ضرورت
تحریر:ایس پیرزادہ
رمضان المبارک صرف عبادت صبر اور تقویٰ کا مہینہ ہی نہیں بلکہ یہ انسانیت ہمدردی اور ایثار کا عملی مظاہرہ کرنے کا بہترین موقع بھی ہے اسی بابرکت مہینے میں جب میں نے فطرانے اور یتیموں کے حقوق پر ایک تحریر قلمبند کی تو مجھے اس بات کی خوشی ہوئی کہ اس نے نہ صرف لوگوں کے دلوں کو چھوا بلکہ معاشرے میں احساسِ ذمہ داری کو بھی اجاگر کیا تاہم میرا ماننا ہے کہ اگرچہ رمضان نیکیاں کمانے کا خصوصی مہینہ ہے مگر ضرورت مندوں کی مدد صرف اسی تک محدود نہیں ہونی چاہیے؛ یہ سلسلہ سارا سال بلکہ پوری زندگی جاری رہنا چاہیے کافی ناموں کی فہرست میں
خاص طور پر محترم ممتاز احمد خان صاحب کی جانب سے اس تحریر کو سراہنا میرے لیے باعثِ فخر اور حوصلہ افزائی کا سبب بنا انہوں نے نہ صرف الفاظ کی قدر کی بلکہ عملی طور پر بھی اپنا حصہ ڈالا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو لفظ بھی عمل میں ڈھل جاتے ہیں اسی تسلسل میں میں چند ایسے محسنین کی خصوصی طور پر شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک بچی کے ایڈمیشن کے لیے ایک بچی کے آپریشن کے لئے خاموشی سے میری مدد کی میں دانستہ طور پر ان کے نام ظاہر نہیں کر رہی کیونکہ بعض نیکیاں گمنامی میں ہی اپنی اصل خوبصورتی برقرار رکھتی ہیں یہ صرف مالی تعاون نہیں تھا بلکہ ایک بچے کے مستقبل کو سنوارنے اور ایک بچی کی زندگی کی عملی کوشش تھی یہ میرے نزدیک صدقۂ جاریہ کی بہترین مثال ہے ایسے افراد معاشرے کے وہ خاموش معمار ہیں جو بنا شور کے زندگیاں بدل دیتے ہیں
میری رائے میں مدد دو طرح کی ہوتی ہے ایک اعلانیہ اور دوسری غیر اعلانیہ یہ بات اپنی جگہ ایک مکمل فلسفہ رکھتی ہے غیر اعلانیہ مدد وہ ہے جو خاموشی سے کی جائے جہاں کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو جہاں دینے والا بھی گمنام رہے اور لینے والے کی خودداری بھی قائم رہے ایسے مواقع پر تشہیر نہ صرف غیر ضروری بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے
یہاں میں اپنی ایک ذاتی سوچ اور احساس بھی شامل کرنا چاہوں گی میں ہمیشہ سے سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر اس رجحان سے اختلاف کرتی آئی ہوں جہاں مدد لینے والوں کے چہرے تشہیر کے لیے دکھائے جاتے ہیں کسی کی آنکھوں میں جھلکتی بے بسی اور محتاجی کو دنیا کے سامنے لانا میرے لیے ہمیشہ تکلیف دہ رہا ہے مدد کا اصل مقصد دل جوڑنا ہے نہ کہ کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا اسلام بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ نیکی اس طرح کی جائے کہ ایک ہاتھ دے تو دوسرے کو خبر نہ ہو اس تعلیم کے پیچھے بھی یہی حکمت ہے کہ انسان کی عزت اور خودداری محفوظ رہے
دوسری طرف اعلانیہ مدد بھی اپنی اہمیت رکھتی ہے جب ہم کھلے عام کسی نیک عمل کو کرتے ہیں تو وہ دوسروں کے لیے ترغیب بنتا ہے یہ معاشرے میں ایک مثبت رجحان پیدا کرتا ہے لوگوں کے دلوں میں جذبہ بیدار کرتا ہے اور ایک نیکی کئی نیکیوں کا سبب بن جاتی ہے یہی وہ توازن ہے جسے سمجھنا اور اپنانا وقت کی ضرورت ہےصرف لنگر یا راشن تقسیم کرنے کے بجائے کچھ ایسا پروجیکٹ ترتیب دیا جائے جس سے لوگ مستقل روزگار حاصل کر سکیں مثلاً چھوٹے چھوٹے ٹھیلےدستکاری یا دیگر روزگار کے مواقع تاکہ ضرورت مند اپنی محنت سے اپنے گھر کا گزر بسر کر سکیں یہ تصور میرے لیے ایک بصیرت ہے کہ حقیقی مدد صرف وقتی سہولت دینا نہیں بلکہ لوگوں کو خود مختار بنانا اور معاشرتی وقار بحال رکھنا ہے اس نقطہ نظر کو میں اپنی آئندہ تحریروں میں اجاگر کرنے کی کوشش کروں گی تاکہ معاشرے میں نیکی اور ہمدردی کے اصل اثرات واضح ہو سکیں میری اپنی تربیت بھی کچھ اسی انداز میں ہوئی ہے بچپن سے مجھے یہ سکھایا گیا کہ اپنے حصے میں سے دوسروں کا حصہ نکالنا ہی اصل انسانیت ہے اپنے کھانے میں سے اپنے خرچ میں سے ہمیشہ دوسروں کو شامل کرنا میری عادت بن گئی یہی وجہ ہے کہ میں نے جب بھی کسی کی مدد کی میری کوشش یہی رہی کہ وہ خاموشی سے ہو بغیر کسی نمود و نمائش کے مجھے کبھی تشہیر پسند نہیں رہی میرے لیے اصل خوشی اس لمحے میں ہوتی ہے جب میں کسی ضرورت مند کو کچھ دیتی ہوں اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک دیکھتی ہوں وہی لمحہ میرے لیے سب سے بڑی وصولی ہوتا ہے وہی میری کمائی ہے وہی میری تسکین
اصل دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم موقع اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں کہ کہاں خاموشی بہتر ہے اور کہاں آواز اٹھانا ضروری جہاں کسی کی عزت کا سوال ہو وہاں خاموشی اختیار کرنا ہی اصل انسانیت ہے اور جہاں معاشرے کو جگانے کی ضرورت ہو وہاں اعلان بھی عبادت بن جاتا ہے میں بطور قلمکار یہ سمجھتی ہوں کہ میرا فرض صرف لکھنا نہیں بلکہ ایسے موضوعات کو اجاگر کرنا بھی ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکیں ممتاز احمد خان صاحب جیسے افراد کی حوصلہ افزائی میرے لیے نہ صرف اعزاز ہے بلکہ ایک ذمہ داری بھی کہ میں اپنی تحریر کو مزید مضبوط بامقصد اور اثر انگیز بناؤں آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گی کہ نیکی کا کوئی ایک طریقہ نہیں ہوتا اصل چیز نیت خلوص اور احساس ہے اگر ہم دل سے کسی کی مدد کریں چاہے وہ خاموشی سے ہو یا اعلانیہ وہ یقیناً کسی نہ کسی دل میں روشنی ضرور پیدا کرتی ہے اور شاید یہی روشنی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے





































Visit Today : 571
Visit Yesterday : 475
This Month : 5244
This Year : 53080
Total Visit : 158068
Hits Today : 6876
Total Hits : 707863
Who's Online : 5




















