کرپشن: خاموش دہشت گردی کی جڑ
کرپشن: خاموش دہشت گردی کی جڑ
تحریر: کلب عابد خان 03009635323
پاکستان کو درپیش مسائل کی فہرست طویل ضرور ہے، مگر اگر ان سب کی جڑ تلاش کی جائے تو ایک حقیقت بار بار سامنے آتی ہے—کرپشن۔ یہ وہ ناسور ہے جو نہ صرف ریاستی ڈھانچے کو کھوکھلا کر رہا ہے بلکہ معاشرے میں ناانصافی، بے چینی اور بدامنی کو بھی جنم دے رہا ہے۔ بظاہر دہشت گردی بندوق اور بارود سے جڑی ہوئی نظر آتی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ کرپشن ہی وہ خاموش طاقت ہے جو دہشت گردی کو جنم دیتی، پالتی اور مضبوط کرتی ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ نظام کرپشن میں اس حد تک ڈوبا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ عام شہری کو اپنے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیے بھی رشوت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ایک شناختی کارڈ بنوانا ہو، پولیس میں رپورٹ درج کروانی ہو، ہسپتال میں علاج کروانا ہو یا کسی سرکاری دفتر سے سادہ سا کام نکلوانا ہو—ہر جگہ ایک غیر اعلانیہ قیمت مقرر نظر آتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام کی تذلیل ہے بلکہ ریاستی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان بھی ہے۔
جب ایک غریب آدمی انصاف کے دروازے پر دستک دیتا ہے اور اسے رشوت کے بغیر کوئی شنوائی نہیں ملتی، تو اس کے دل میں ریاست کے خلاف نفرت جنم لیتی ہے۔ جب نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے مگر سفارش اور پیسے والے آگے نکل جاتے ہیں، تو مایوسی اس کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔ یہی مایوسی بعض اوقات شدت پسندی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔
کرپشن صرف پیسوں کی خردبرد کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جو حق دار کو اس کے حق سے محروم کرتا ہے۔ جب ترقیاتی منصوبوں میں کمیشن لیا جاتا ہے تو سڑکیں ٹوٹ جاتی ہیں، ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہوتیں اور اسکولوں میں اساتذہ ناپید ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک ایسا معاشرہ بنتا ہے جہاں بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہیں، اور یہی محرومیاں شدت پسندی کو ہوا دیتی ہیں۔
ہم اکثر دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بات کرتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی اس کی بنیادی وجوہات پر توجہ دی؟ اگر کرپشن ختم ہو جائے تو انصاف کا نظام مضبوط ہوگا، وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوگی، اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوگا۔ جب اعتماد بحال ہوگا تو کوئی بھی شخص ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا نہیں سوچے گا۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں احتساب کا عمل بھی اکثر متنازعہ نظر آتا ہے۔ بڑے بڑے اسکینڈلز سامنے آتے ہیں، شور مچتا ہے، مگر انجام اکثر وہی ڈھاک کے تین پات۔ اس سے عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ احتساب بلا تفریق ہو، شفاف ہو اور مستقل بنیادوں پر ہو، نہ کہ وقتی سیاسی مقاصد کے لیے۔
کرپشن کے خاتمے کے لیے صرف قوانین کافی نہیں، بلکہ ایک اجتماعی سوچ کی تبدیلی بھی ضروری ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں ایمانداری، دیانت اور حق گوئی کو فروغ دینا ہوگا۔ جب تک ہم خود چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں کو “چلتا ہے” کہہ کر نظر انداز کرتے رہیں گے، تب تک بڑے پیمانے پر کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک ایسا نظام قائم کرے جہاں میرٹ کو ترجیح دی جائے، انصاف فوری اور سستا ہو، اور ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ اسی طرح عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ کرپشن کے خلاف آواز بلند کریں اور اپنے کردار کو بھی درست رکھیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم واقعی دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں بندوق سے پہلے کرپشن کے خلاف جنگ جیتنا ہوگی۔ کیونکہ جب تک کرپشن زندہ ہے، دہشت گردی کے بیج بھی اس زمین میں پنپتے رہیں گے۔





































Visit Today : 571
Visit Yesterday : 475
This Month : 5244
This Year : 53080
Total Visit : 158068
Hits Today : 6874
Total Hits : 707861
Who's Online : 5




















